انوارالعلوم (جلد 20) — Page 21
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۱ دیباچہ تفسیر القرآن کے نزدیک بلکہ عربی بولنے والے غیر مذاہب کے لوگوں کے نزدیک بھی مسلمہ ہیں حاشیہ میں دیئے ہیں تا کہ ایک عربی سے ناواقف آدمی بھی یہ معلوم کر سکے کہ جو تر جمہ ہم نے کیا ہے وہ خواہ کسی دوسرے کے نزدیک قابل قبول نہ ہو ، مگر ہے عربی لغت کے عین مطابق۔اور بغیر کسی قرآنی دلیل کے جس سے معلوم ہو کہ اس جگہ اس لفظ کو ان معنوں میں قرآن کریم نے استعمال نہیں کیا یا بغیر شواہد لغت عربیہ کے اسے رڈ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔ترجمہ کے متعلق اس قدر تشریح کے بعد اب ہم تشریحی تفسیری نوٹ لکھنے کی وجوہ نوٹوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ درجنوں تفسیر میں قرآن کریم کی اس وقت تک لکھی جا چکی ہیں اور شاید ان کی موجودگی میں کسی نئی تفسیر کی ضرورت نہ سمجھی جائے لیکن ان تفسیروں کی موجودگی کے باوجود ہم نے کی یہ تفسیری نوٹ لکھے ہیں اس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں:۔(۱) جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے عربی زبان کے الفاظ وسیع معانی رکھتے ہیں لیکن ترجمہ میں صرف ایک ہی معنی کا خیال رکھا جا سکتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ نیچے نوٹ دیئے جاتے تا کہ بعض اور اہم معانی پر بھی روشنی پڑ جاتی۔(۲) قرآن کریم کی تمام اہم اور مفصل تفسیر میں جو اس وقت تک لکھی گئی ہیں عربی زبان میں ہیں اور ظاہر ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کی عبارت کو نہیں سمجھ سکتے وہ اس کی تفاسیر سے بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔(۳) جو نوٹ تفسیری رنگ میں قرآن کریم کے تراجم کے حواشی میں غیر مسلم متر جموں نے لکھے ہیں وہ: (الف) مخالفین اسلام کی کتب سے متاثر ہو کر لکھے گئے ہیں۔(ب) ان لوگوں کو عربی زبان کا یا تو بالکل علم نہ تھا یا بہت ہی کم علم تھا اس وجہ سے معتبر اور مفصل تفسیروں سے وہ فائدہ نہیں اُٹھا سکے۔چنانچہ مغربی زبانوں میں جس قدر تراجم ہیں ان میں سے کسی ایک کے حواشی میں بھی قرآن کریم کی معتبر اور مفصل تفاسیر میں