انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 20

انوار العلوم جلد ۲۰ تفسیر القرآن قسم کا ترجمہ ایک رائے کا اظہار تو کہلا سکتا ہے حقیقت کا آئینہ دار نہیں کہلا سکتا۔ان نقائص کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضرورت شدید طور پر محسوس ہوتی تھی کہ ایک ایسا ترجمہ قرآن کریم کا غیر عربی دان لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو: (الف) عربی دان افراد کی کوشش اور محنت کا نتیجہ ہواور : (ب) جو لغت عربی پر بنی ہو۔چنانچہ یہ انگریزی ترجمہ جس کے بعد دوسری زبانوں کے تراجم إِنْشَاءَ اللهُ جلد شائع کئے جائیں گے انہی دو اصول کے ماتحت شائع کیا جا رہا ہے۔عربی زبان سے دوسری زبانوں اس میں کوئی شک نہیں کہ چونکہ عربی زبان ایک فلسفیانہ زبان ہے اور اس کے تمام میں ترجمہ کرنے میں ایک وقت الفاظ معین حکمتوں کے ماتحت وضع کئے گئے ہیں اور اس وجہ سے کہ ان کے مادے ابتدائی جذبات و مشاہداتِ انسانی کے اظہار کے لئے بنائے گئے ہیں اس لئے استعمال میں ان کے معنی بعض دفعہ نہایت وسیع ہی نہیں ہو جاتے بلکہ نہایت گہرے بھی ہو جاتے ہیں۔دوسری زبانوں میں ان کا پورا ترجمہ کرنا قریباً ناممکن ہے اور ی جب تک کہ تفسیری نوٹوں میں ان معانی کی وسعت بیان نہ کی جائے صرف ترجمہ پورے مضمون کو ظاہر نہیں کرسکتا۔اس لئے جو ترجمہ ہم پیش کر رہے ہیں ان معنوں میں مکمل ترجمہ نہیں کہلا سکتا کہ انگریزی ترجمہ نے عربی عبارت کا پورا مفہوم یا قریباً پورا مفہوم بیان کر دیا ہے بلکہ وہ ترجمہ عربی عبارت کے مختلف مفہوموں سے صرف ایک مفہوم کو ظاہر کرنے والا قرار دیا جا سکتا اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ہم نے : (۱) مختصر نوٹ ترجمہ کے نیچے دیئے ہیں یہ نوٹ اس وجہ سے کہ ایک مکمل تفسیر نہیں ہیں ان مختلف معانی کو جو ہمارے نزدیک کسی آیت کے ہیں مکمل طور پر تو نہیں ظاہر کرتے مگر کم سے کم ترجمہ کی محدودیت کا کسی قد رازالہ کر دیتے ہیں۔ہے۔(۲) دوسرے پڑھنے والے کو ترجمہ میں بصیرت بخشنے کے لئے اور اس کے دل کو اس بات پر مطمئن کرنے کے لئے کہ جو ترجمہ ہم نے کیا ہے وہ آزاد نہیں ہے بلکہ لغت اور وضع کلام کے مطابق ہے ہم نے ضروری الفاظ کے معانی ایسی کتب لغت سے جو نہ صرف مسلمانوں