انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 304

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۰۴ دیباچہ تفسیر القرآن اکا دُکا پکڑ کر مار سکیں گے اور اس طرح اپنی ذلت کا بدلہ لے سکیں گے۔چنانچہ احزاب کی کی شکست کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مدینہ کے اردگرد کے قبائل نے مسلمانوں پر چھاپے مارنے شروع کر دیے۔چنانچہ فزارہ قوم کے کچھ سواروں نے مدینہ کے قریب چھاپہ مارا اور مسلمانوں کی کے اونٹ جو وہاں چر رہے تھے اُن کے چرواہے کو قتل کیا، اُس کی بیوی کو قید کر لیا اور اونٹوں سمیت بھاگ گئے۔قیدی عورت تو کسی نہ کسی طرح بھاگ آئی لیکن اونٹوں کا ایک حصہ لے کر بھاگ جانے میں دشمن کامیاب ہو گیا۔اس کے ایک مہینہ بعد شمال کی طرف غطفان قبیلہ کے لوگوں نے مسلمانوں کے اونٹوں کے گلوں کو لوٹنے کی کوشش کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ کو دس سواروں سمیت حالات کے معلوم کرنے اور گلوں کی حفاظت کرنے کے لئے بجھوایا مگر دشمن نے موقع پا کر انہیں قتل کر دیا۔محمد بن مسلمہ کو بھی وہ اپنی طرف سے قتل کر کے پھینک گئے تھے لیکن اصل میں وہ بیہوش تھے دشمن کے چلے جانے کے بعد وہ ہوش میں آئے اور مدینہ پہنچ کر ان حالات کی اطلاع دی اور بتایا کہ میرے سب ساتھی مارے گئے اور صرف میں بچا ہوں۔کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفیر جو رومی حکومت کی طرف سے بھجوایا گیا تھا اُس پر جرہم قوم نے حملہ کیا اور اُسے لوٹ لیا۔اس کے ایک مہینہ بعد بنو فزارہ نے مسلمانوں کے ایک قافلہ پر حملہ کیا اور اسے لوٹ لیا۔غالبا یہ حملہ کسی مذہبی عداوت کی وجہ سے نہیں تھا کیونکہ بنو فزارہ ڈاکوؤں کا ایک قبیلہ تھا جو ہر قوم کے آدمیوں کو لوٹتے اور قتل کرتے رہتے تھے۔اُس زمانہ میں خیبر کے یہودی بھی جو جنگ احزاب کا موجب ہوئے تھے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ادھر اُدھر کے قبائل کو بھڑکاتے رہے اور رومی حکومت کے سرحدی علاقوں کے افسروں اور قبائل کو بھی مسلمانوں کے خلاف جوش دلاتے رہے۔غرض کفار عرب کو مدینہ پر حملہ کرنے کی تو ہمت نہ رہی تھی تاہم وہ یہود کے ساتھ مل کر سارے عرب میں مسلمانوں کے لئے مصیبتوں اور لوٹ مار کے سامان پیدا کر رہے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی تک کفار کے ساتھ آخری لڑائی لڑنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا اور آپ اس انتظار میں تھے کہ اگر صلح کے ساتھ یہ خانہ جنگی ختم ہو جائے تو اچھا ہے۔