انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 278

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۷۸ دیباچہ تفسیر القرآن اُن لوگوں کا تو خیال یہ تھا کہ شاید جس طرح ہم نے مسلمان رؤساء بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ناک اور کان اُحد کی جنگ میں کاٹ دیئے تھے اسی طرح شاید آج مسلمان ہمارے اس رئیس کے ناک، کان کاٹ کر ہماری قوم کی بے عزتی کریں گے۔مگر اسلام کے احکام تو بالکل اور قسم کے ہیں۔اسلام لاشوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا۔چنانچہ کفار کا پیغام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا۔اس لاش کو ہم نے کیا کرنا تج ہے یہ لاش ہمارے کس کام کی ہے کہ اس کے بدلہ ہم تم سے کوئی قیمت لیں۔اپنی لاش بڑے شوق سے اُٹھا کر لے جاؤ۔ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں۔۲۸۸ اُن دنوں جس جوش کے ساتھ کفار حملہ کرتے اتحادی فوجوں کے مسلمانوں پر حملے تھے میور اُس کا اِن الفاظ میں ذکر کرتا ہے۔وو دوسرے دن محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دیکھا کہ اتحادی فوجیں متفقہ طور پر اُن پر حملے کرنے کے لئے تیار کھڑی ہیں ، اُن کے حملوں کو روکنے کے لئے بہت زیادہ ہوشیار اور ہر وقت چوکس رہنا ضروری تھا۔کبھی وہ متفقہ حملہ کرتے ، کبھی دستوں میں تقسیم ہو کر مختلف چوکیوں پر حملہ کرتے اور جب کسی چوکی کو کمزور پاتے تو اپنی ساری فوج اُس جگہ پر جمع کر لیتے اور بے پناہ تیراندازی کے پردہ میں وہ خندق پار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔یکے بعد دیگرے خالد اور عمر و جیسے مشہور لیڈروں کی ماتحتی میں فوج بہادرانہ حملہ شہر میں داخل ہونے کے لئے کرتی۔ایک دفعہ تو خودمحمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خیمہ دشمن کی زد میں آگیا لیکن مسلمانوں کے فدائیانہ مقابلہ اور تیروں کی بوچھاڑ نے حملہ آوروں کو پیچھے دھکیل دیا۔یہ حملہ سارا دن جاری رہا اور چونکہ مسلمانوں کی فوج ساری مل کر بمشکل خندق کی حفاظت کر سکتی تھی کوئی آرام کا وقفہ مسلمانوں کو نہ ملا۔رات پڑ گئی مگر رات کو بھی خالد کے ماتحت دستوں نے لڑائی کو جاری رکھا اور مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ رات کو بھی اپنی چوکیوں کی حفاظت پورے طور پر کر یں۔لیکن دشمن کی یہ تمام کوششیں بریکار گئیں۔خندق کو کبھی بھی دشمن کے کافی سپاہی پار نہ کر سکے۔۲۸۹ لیکن باوجود اس کے کہ جنگ دو روز سے ہو رہی تھی سپاہی ایک دوسرے کے ساتھ گھ