انوارالعلوم (جلد 20) — Page 279
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۹ دیباچہ تفسیر القرآن جانے کا موقع نہیں پاتے تھے اس لئے چوبیس گھنٹہ کی جنگ میں اتحادیوں کے صرف تین آدمی مارے گئے اور مسلمانوں کے پانچ۔اس حملہ میں سعد بن معاذ اوس قبیلہ کے رئیس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی صحابی مُہلک طور پر زخمی ہوئے۔ان حملوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک جگہ خندق کے کنارے ٹوٹ گئے اور اُس طرف سے حملہ کرنا بہت ممکن ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جرات اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا یہ حال تھا کہ آپ سردی میں رات کو اُٹھ اُٹھ کر اُس جگہ جاتے اور اُس کا پہرہ دیتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ پہرہ دیتے ہوئے تھک جاتے اور سردی سے نڈھال ہو جاتے تو واپس آکر تھوڑی دیر میرے ساتھ لحاف میں لیٹ جاتے ، مگر جسم کے گرم ہوتے ہی پھر اُس شگاف کی حفاظت کے لئے چلے جاتے۔اس طرح متواتر جاگنے سے آپ ایک دن بالکل نڈھال ہو گئے اور رات کے وقت فرمایا کاش ! اِس وقت کوئی مخلص مسلمان ہوتا تو میں آرام سے سو جاتا۔اتنے میں باہر سے سعد بن وقاص کی آوازی آئی۔آپ نے پوچھا کہ کیوں آئے ہو؟ اُنہوں نے کہا آپ کا پہرہ دینے کو۔آپ نے فرمایا مجھے پہرہ کی ضرورت نہیں تم فلاں جگہ جہاں خندق کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے جاؤ اور اُس کا پہرہ دوتا مسلمان محفوظ رہیں۔چنانچہ سعد اُس جگہ کا پہرہ دینے چلے گئے اور آپ سو گئے۔۲۹۰ ( عجیب بات ہے کہ جب آپ شروع شروع میں مدینہ تشریف لائے تھے اور خطرہ بہت بڑھا ہوا تھا تب بھی سعد پہرہ دینے کے لئے تشریف لائے تھے ) انہی ایام میں آپ نے ایک دن کچھ لوگوں کے اسلحہ کی آواز سُنی اور پوچھا کون ہے؟ تو عباد بن بشیر نے کہا میں ہوں۔آپ نے فرمایا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ اُنہوں نے کہا ایک جماعت صحابہ کی ہے جو آپ کے خیمہ کا پہرہ دینے کے لئے آئے ہیں۔آپ نے فرمایا اس وقت مشرکین خندق پھاند نے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں جاؤ اور اُن کا مقابلہ کرو میرے خیمہ کو رہنے دو۔۲۹۱ بنو قریظہ کی مشرکوں سے مل کر حملہ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے یہود نے مدینہ میں چوری چھپے داخل ہونے کی کوشش کی کے لئے تیاری اور اُس میں ناکامی اور اس میں اُن کا جاسوس مارا گیا۔جب یہود کو یہ معلوم ہوا کہ اُن کی سازش ظاہر ہوگئی ہے تو اُنہوں نے زیادہ دلیری سے عربوں کی مدد کی