انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 260

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۶۰ دیبا چه تفسیر القرآن وہ زمانہ جس نے اس قدر بڑا تمد فی انقلاب پیدا کر دیا ؟ اُحد کا واقعہ ایسی غزوہ اُحد کے بعد کفار قبائل کے ناپاک منصوبے ابھی اور ان کی بات نه سے بھولا جا سکتا ۔ مکہ والوں نے خیال کیا تھا کہ یہ اُن کی اسلام کے خلاف پہلی فتح ہے اُنہوں نے اس کی خبر تمام عرب میں شائع کی اور عرب کے قبائل کو اسلام کے خلاف بھڑکانے اور یہ یقین دلانے کا ذریعہ بنایا کہ مسلمان نا قابلِ تسخیر نہیں ہیں ۔ اور اگر وہ ترقی کرتے رہے ہیں تو اس کی وجہ اُن کی طاقت نہیں تھی بلکہ عرب قبائل کی بے تو جہی تھی ۔ عرب متحدہ کوشش کریں تو مسلمانوں پر غالب آجانا کوئی مشکل امر نہیں ۔ اس پروپیگنڈا کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف مخالفت ۔ زور پکڑتی گئی اور دیگر قبائل نے مسلمانوں کو تکلیف دینے میں مکہ والوں سے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا۔ بعض نے کھلم کھلا حملے شروع کر دیئے اور بعض نے خفیہ طور پر اُن کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ ہجرت کے چوتھے سال عرب کے دو قبائل عضل اور قارۃ نے اپنے نمائندے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج کر عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں اور درخواست کی کہ کچھ آدمی جو تعلیم اسلام سے پوری طرح سے واقف ہوں بھیج دیئے جائیں تا کہ وہ اُن کے درمیان رہ کر اُن کو اس نئے مذہب کی تعلیم دیں ۔ دراصل یہ ایک سازش تھی جو اسلام کے پکے دشمن بنولحیان نے کی تھی اور ان کا مقصد یہ تھا کہ جب یہ نمائندے مسلمانوں کو لے کر آئیں گے تو وہ اُن کو قتل کر کے اپنے رئیس سفیان بن خالد کا بدلہ لیں گے۔ چنانچہ انہوں نے عضل اور قارة کے نمائندوں کو اس غرض سے کہ وہ چند مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے آئیں ، انعام کے بڑے بڑے وعدے دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ میں بھیجا تھا۔ جب عضل اور قارة کے لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر درخواست کی تو آپ نے اُن کی بات پر اعتبار کر کے دس مسلمانوں کو ان کے ساتھ کر دیا کہ ان کو اسلام کے عقائد اور اصولوں کی تعلیم دیں ۔ جب یہ جماعت بنولحیان کے علاقہ میں پہنچی تو عضل اور قارة کے لوگوں نے بنولحیان کو اطلاع بھیجوا دی ور ان کو کہلا بھیجا کہ مسلمانوں کو یا تو گرفتار کر یان خدمت