انوارالعلوم (جلد 20) — Page 261
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۶۱ دیباچهتفسیر القرآن لیں یا موت کے گھاٹ اُتار دیں۔اس ناپاک منصوبے کے ماتحت بنو لحیان کے دو سو مسلح آدمی مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور آخر مقام رجیع میں اُن کو آگھیرا۔دس مسلمانوں اور دوسو دشمنوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔مسلمانوں کے دل نور ایمان سے پُر تھے اور دشمن اس کے سے تہی تھے۔دس مسلمان ایک ٹیلہ پر چڑھ گئے اور دوسو آدمیوں کو دعوتِ مبارزت دی۔دشمن نے ایک فریب کر کے اُن کو گرفتار کرنا چاہا اور اُن سے کہا کہ اگر تم نیچے اتر آؤ تو تمہیں کچھ نہ کہا جائے گا، مگر مسلمانوں کے امیر نے کہا کہ ہم کافروں کے عہد و پیمان کو خوب دیکھ چکے ہیں۔اس کی کے بعد اُنہوں نے آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر کہا اے خدا! تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے اپنے کی رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔جب کفار نے دیکھا کہ مسلمانوں کی اس چھوٹی سی جماعت پر اُن کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو انہوں نے اُن پر حملہ کر دیا اور مسلمان بغیر خوف شکست کے لڑتے چلے گئے ، یہاں تک کہ دس میں سے سات شہید ہو گئے۔باقی تین جو بچ رہے تھے اُن کو کفار نے پھر وعدہ دیا کہ ہم تمہاری جانیں بچالیں گے بشرطیکہ تم ٹیلے سے نیچے اتر آؤ۔لیکن جب وہ کفار کے وعدہ پر اعتبار کر کے نیچے اُتر آئے تو کفار نے انہیں اپنی کمانوں کی تانتوں سے جکڑ کر باندھ لیا۔اِس پر اُن میں سے ایک نے کہا کہ یہ پہلی خلاف ورزی ہے جو تم اپنے عہد کی کر رہے ہو اللہ ہی جانتا ہے کہ تم اس کے بعد کیا کرو گے۔یہ کہہ کر اُس نے اُن کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔کفار نے اُس کو مارنا اور گھسیٹنا شروع کر دیا۔مگر آخر اُس کے مقابلے اور استقلال سے اس قدر مایوس ہو گئے کہ اُنہوں نے اُس کو وہیں قتل کر دیا۔باقی دوکو وہ ساتھ لے گئے اور بطور غلاموں کے قریش مکہ کے پاس فروخت کر دیا کہ ان میں سے ایک کا نام حبیب تھا اور دوسرے کا زید - خبیب کا خریدار اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لئے جسے خبیب نے کی جنگ بدر میں قتل کیا تھا حبیب کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ایک دن حبیب نے اپنی ضرورت کے لئے استرا مانگا۔اُسترا خبیب کے ہاتھ میں تھا کہ گھر والوں کا ایک بچہ کھیلتے ہوئے اُس کے پاس چلا گیا۔خبیب نے اس کو اٹھا کر اپنی ران پر بیٹھا لیا۔بچے کی ماں نے جب یہ دیکھا تو دہشت زدہ ہوگئی اور اُسے یقین ہو گیا کہ اب خبیب بچے کو قتل کر دے گا کیونکہ وہ خبیب کو چند دنوں میں قتل کرنے والے تھے۔اُس وقت اُسترا اُس کے ہاتھ میں تھا اور بچہ اُس کے اتنا قریب تھا کہ وہ کی