انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 15

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۵ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک ہو چکی ہوں اب آپ کو مجھے قتل کرنے کا اختیار نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا ہاں اب تم پر کوئی گرفت نہیں ہو سکتی۔سے غرض وہ قوم جو مجھتی تھی کہ آپ نے سب خداؤں کو کوٹ کر ایک خدا بنالیا ہے ان میں اتنا تغیر پیدا ہو گیا کہ ہندہ جیسی عورت نے کہا کہ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ خدا ایک نہیں۔اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب تمام دنیا صداقت اسلام کی قائل ہو جائے گی۔اب تو یہ حالت ہے کہ ایک مسلمان اپنی عملی کمزوریوں کی وجہ سے دوسروں کے سامنے شرمندہ ہو جاتا ہے لیکن ایک دن آئے گا جبکہ یورپین اقوام بھی ان احکام کو تسلیم کریں گی النَّاسُ عَلَى دِينِ ملوكهم لوگ بادشاہوں کے مذہب کے تابع ہوتے ہیں بے شک کچھ لوگ وہ بھی ہوتے ہیں جو نقال ہوا کرتے ہیں۔جیسے شروع شروع میں مسلمان آئے تو ہندو بھی فارسی بولنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اسی طرح جیسا کوئی فیشن ہو جائے لوگ بھی وہی اختیار کر لیتے ہیں۔اُس کی وقت ہندوؤں نے بھی داڑھیاں رکھ لی تھیں مگر جب انگریزوں کا زمانہ آیا تو داڑھی منڈوانا شروع کر دی۔چھوٹے کوٹ پہننے شروع کر دیئے۔جب اسلام غالب آئے گا تو ہر انسان اس بات میں فخر محسوس کرے گا کہ وہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرے لیکن جب تک اسلام غالب نہیں آتا ہمیں بڑی بڑی قربانیاں کرنی پڑیں گی اور اپنے نفسوں کو مارنا ہو گا۔جب تک ہم اپنے نفسوں کو مار کر موجودہ رسم و رواج کے خلاف اپنے آپ کو نہیں اُبھاریں گے ، دریا کی دھار کے خلاف تیرنے کی کوشش نہیں کریں گے ، ملامت کی تلوار کے نیچے، ہنسی اور مذاق کی تلوار کے نیچے ، سیاسی لوگوں کے سیاسی اعتراضات کی تلوار کے نیچے ، مذہبی اور فلسفی لوگوں کے اعتراضات کی تلوار کے نیچے اپنا سر رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اُس کی وقت تک اس عظیم الشان مقصد کے پورا کرنے کی ہمیں امید نہیں رکھنی چاہئے۔دنیا میں آج تک کوئی قوم ایسی نہیں گذری جس نے صرف میٹھی میٹھی باتوں سے دنیا کو فتح کر لیا ہو۔قو میں ہمیشہ مصیبتوں اور ابتلاؤں کی تلواروں کے سایہ تلے بڑھتی اور ترقی کرتی ہیں اور انہیں لوگوں کے اعتراضات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔پس اپنے آپ کو اس فتح کا اہل بناؤ۔جب تک آپ لوگ خدا اور اس کے رسول کے دیوانے نہیں بن جاتے ، جب تک موجودہ فیشن اور رسم و رواج