انوارالعلوم (جلد 20) — Page 246
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۴۶ دیباچہ تفسیر القرآن کرتے تھے ، انہیں مجبور کر کے مکہ والے اپنے ساتھ لڑائی کے لئے لے آئے تھے۔اسی طرح قیدیوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی کے خاوند ابوالعاص بھی تھے۔مارے جانے والوں میں ابو جہل مکہ کی فوج کا کمانڈر اور اسلام کا سب سے بڑا دشمن بھی شامل تھا۔بدر کے قیدی اس فتح پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش بھی تھے کہ وہ پیشگوئیاں جو متواتر چودہ سال سے آپ کے ذریعہ سے شائع کی جا رہی تھیں اور وہ پیشگوئیاں جو پہلے انبیاء اس دن کے متعلق کر چکے تھے پوری ہو گئیں ، لیکن مکہ کے مخالفوں کا عبرتناک انجام بھی آپ کی نظروں کے سامنے تھا۔آپ کی جگہ پر کوئی اور شخص ہوتا تو خوشی سے اُچھلتا اور کودتا لیکن جب آپ کے سامنے سے مکہ کے قیدی رسیوں میں بندھے ہوئے گزرے تو آپ اور آپ کے باوفا ساتھی ابوبکر کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے۔اُس وقت حضرت عمر جو بعد میں آپ کے دوسرے خلیفہ ہوئے سامنے سے آئے تو انہیں حیرت ہوئی کہ اس فتح اور خوشی کے وقت میں آپ کیوں رو ر ہے ہیں اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله! مجھے بھی بتائیے کہ اس وقت رونے کا کیا باعث ہے؟ اگر وہ بات میرے لئے بھی رونے کا موجب ہے تو میں بھی روؤں گا، نہیں تو کم سے کم میں آپ کے غم میں شریک ہونے کے لئے رونی صورت ہی بنالوں گا۔آپ نے فرمایا دیکھتے نہیں خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے آج مکہ والوں کی کیا حالت ہو رہی ہے۔۲۵۵ آپ کے انصاف اور آپ کی عدالت کا جس کی خبر یسعیاہ نے بار بار اپنی پیشگوئیوں میں دی ہے اس موقع پر ایک لطیف ثبوت ملا۔مدینہ کی طرف واپس آتے ہوئے رات کو جب آپ کی سونے کے لئے لیٹے تو صحابہ نے دیکھا کہ آپ کو نیند نہیں آتی۔آخر انہوں نے سوچ کر یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کے چچا عباس چونکہ رسیوں میں جکڑے ہونے کی وجہ سے سو نہیں سکتے اور اُن کے کراہنے کی آوازیں آتی ہیں اِس لئے اُن کی تکلیف کا خیال کر کے آپ کو نیند نہیں آتی۔اُنہوں نے آپس میں مشورہ کر کے حضرت عباس کے بندھنوں کو ڈھیلا کر دیا۔حضرت عباس سو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نیند آ گئی۔تھوڑی دیر کے بعد یکدم گھبرا کے آپ کی آنکھ کھلی اور آپ نے پوچھا عباس خاموش کیوں ہیں؟ اُن کے کراہنے کی آواز اب کیوں نہیں آتی ؟ آپ کے دل میں یہ وہم پیدا ہوا کہ شاید تکلیف کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔صحابہ نے کہايَا رَسُولَ الله!