انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 247

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۴۷ دیباچهتفسیر القرآن ہم نے آپ کی تکلیف کو دیکھ کر اُن کے بندھن ڈھیلے کر دیئے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں ! نہیں !! یہ بے انصافی نہیں ہونی چاہئے۔جس طرح عباس میرا رشتہ دار ہے دوسرے قیدی بھی تو دوسروں کے رشتہ دار ہیں یا تو سب قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دو تا کہ وہ آرام سے سو جائیں اور یا پھر عباس کے بندھن بھی کس دو۔صحابہ نے آپ کی بات سن کر سب قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دیئے اور حفاظت کی ساری ذمہ داری اپنے سر پر لے لی۔۲۵۶ جولوگ قید ہوئے تھے اُن میں سے جو پڑھنا جانتے تھے آپ نے اُن کا صرف یہی فدیہ مقرر کیا کہ وہ مدینہ کے دس دس کی لڑکوں کو پڑھنا سکھا دیں۔بعض جن کا فدیہ دینے والا کوئی نہیں تھا اُن کو یونہی آزاد کر دیا۔وہ می امراء جو فدیہ دے سکتے تھے اُن سے مناسب فدیہ لے کر اُن کو چھوڑ دیا اور اس طرح اس پرانی رسم کو کہ قیدیوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا تھا آپ نے ختم کر دیا۔جنگ اُحد کفار کے لشکر نے میدان سے بھاگتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اگلے سال ہم دوبارہ مدینہ پر حملہ کریں گے اور اپنی شکست کا مسلمانوں سے بدلہ لیں گے چنانچہ ایک سال کے بعد وہ پھر پوری تیاری کر کے مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔مکہ والوں کے غصہ کا یہ حال تھا کہ بدر کی جنگ کے بعد اُنہوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ کسی شخص کو اپنے مردوں پر رونے کی اجازت نہیں اور جو تجارتی قافلے آئیں گے اُن کی آمد آئندہ جنگ کے لئے محفوظ رکھی جائے گی۔چنانچہ بڑی تیاری کے بعد تین ہزار سپاہیوں سے زیادہ تعداد اس کا ایک لشکر ابوسفیان کی قیادت میں مدینہ پر حملہ آور ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ لیا کہ آیا ہم کو شہر میں ٹھہر کر مقابلہ کرنا چاہئے یا باہر نکل کر۔آپ کا اپنا خیال یہی تھا کہ دشمن کو حملہ کرنے دیا جائے تا کہ جنگ کی ابتداء کا بھی وہی ذمہ دار ہو اور مسلمان اپنے گھروں میں بیٹھ کر اُس کا مقابلہ آسانی سے کر سکیں لیکن وہ نوجوان مسلمان جن کو بدر کی جنگ میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا تھا اور جن کے دلوں میں حسرت رہی تھی کہ کاش! ہم کو بھی خدا کی راہ میں شہید ہونے کا موقع ملتا اُنہوں نے اصرار کیا کہ ہمیں شہادت سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے۔چنانچہ آپ نے اُن کی بات مان لی۔مشورہ لیتے وقت آپ نے اپنی ایک خواب بھی سنائی۔فرمایا خواب میں میں نے چند گائیں