انوارالعلوم (جلد 20) — Page 187
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۸۷ دیبا چه تفسیر القرآن مانی اور اُس کی عزت قائم کی ۔ تو ابوجہل نے کہا خدا کی قسم ! اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی یہی کرتے۔ میں نے دیکھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دائیں اور بائیں مست اونٹ کھڑے ہیں جو میری گردن مروڑ کر مجھے ہلاک کرنا چاہتے ہیں ۔ ۱۶ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی روایت میں کوئی صداقت ہے یا نہیں ۔ آیا اُسے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نشان دکھایا تھا یا صرف اُس پر حق کا رُعب چھا گیا اور اُس نے یہ دیکھ کر کہ سارے مکہ کا مطعون اور مقہور انسان ایک مظلوم کی حمایت کے جوش میں اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد کے مکہ کے سردار کے دروازہ پر کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اس شخص کا جو حق تم نے دینا ہے وہ ادا کر دو تو حق کے رُعب نے اُس کی شرارت کی روح کو کچل دیا اور اُسے سچائی کے آگے سر جھکانا پڑا ۔ حضرت خدیجہ سے آنحضرت علی کی شادی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ عروسه علیہ وسلم ۲۵ سال کے ہوئے تو آپ کی نیکی اور آپ کے تقویٰ کی شہرت عام طور پر پھیل چکی تھی لوگ آپ کی طرف انگلیاں اُٹھاتے اور کہتے یہ سچا انسان جا رہا ہے۔ یہ امانت والا انسان جا رہا ہے۔ یہ خبریں مکہ کی ایک مالدار بیوہ کو بھی پہنچیں اور اُس نے آپ کے چچا ابو طالب سے خواہش کی کہ وہ اپنے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کہیں کہ اُس کا تجارتی مال جو شام کے تجارتی قافلہ کے ساتھ جا رہا ہے وہ اُس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے ۔ ابو طالب نے آپ سے ذکر کیا اور آپ نے اسے منظور کر لیا۔ اس سفر میں آپ کو بڑی کامیابی ہوئی اور اُمید سے زیادہ نفع کے ساتھ آپ کوٹے ۔ خدیجہ نے محسوس کیا کہ یہ نفع صرف منڈیوں کے حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ امیر قافلہ کی نیکی اور دیانت کی وجہ سے ۔ ہے۔ اُس نے ، اپنے اپنے غلام غلام میسرہ میسرہ سے جو آپ کے ساتھ تھا آپ کے حالات دریافت کئے اور اُس نے بھی اُس کے خیال کی تائید کی اور بتایا کہ سفر میں جس دیانتداری اور خیر خواہی سے آپ نے کام کیا ہے وہ صرف آپ ہی کا حصہ تھا۔ اس بات کا حضرت خدیجہ کی طبیعت پر خاص اثر ہوا۔ باوجود اس کے کہ وہ اُس وقت چالیس سال کی تھیں اور دو دفعہ بیوہ ہو چکی تھیں اُنہوں نے اپنی ایک سہیلی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بجھوایا تا معلوم کرے کہ کیا آپ اُن سے شادی کرنے پر رضا مند ہوں گے؟ وہ سہیلی آپ کے پاس آئی اور اُس نے آپ