انوارالعلوم (جلد 20) — Page 188
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۸۸ دیباچهتفسیر القرآن سے پوچھا کہ آپ شادی کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے کہا میرے پاس کوئی مال نہیں ہے جس کی سے میں شادی کروں۔اُس سہیلی نے کہا اگر یہ مشکل دور ہو جائے اور ایک شریف امیر عورت سے آپ کی شادی ہو جائے تو پھر ؟ آپ نے فرمایا وہ کون عورت ہے؟ اُس نے کہا خدیجہ۔آپ نے فرمایا میں اُس تک کس طرح پہنچ سکتا ہوں؟ اس پر اُس سہیلی نے کہا کہ یہ میرے ذمہ رہا۔آپ نے فرمایا مجھے منظور ہے۔تب خدیجہ نے آپ کے چا کی معرفت شادی کا فیصلہ پختہ کیا اور آپ کی شادی حضرت خدیجہ سے ہوئی۔ایک غریب و یتیم نوجوان کے لئے دولت کا یہ پہلا دروازہ کھلا ،مگر اُس نے اس دولت کو جس طرح استعمال کیا وہ ساری دنیا کیلئے ایک سبق آموز واقعہ ہے۔اموں کی آزادی اور زید کا ذکر آپ کی شادی کے بعد جب حضرت خدیجہ نے یہ محسوس کیا کہ آپ کا حساس دل وہ ایسی زندگی میں کوئی لطف نہیں پائے گا کہ آپ کی بیوی مالدار ہو اور آپ اُس کے محتاج ہوں تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اپنا مال اور اپنے غلام آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتی ہوں۔آپ نے کہا خدیجہ! کیا سچ مچ ؟ جب اُنہوں نے پھر دوبارہ اقرار کیا تو آپ نے فرمایا میرا پہلا کام یہ ہوگا کہ میں غلاموں کو آزاد کر دوں۔چنانچہ آپ نے اُسی وقت حضرت خدیجہ کے غلاموں کو بلایا اور فرمایا تم سب لوگ آج سے آزاد ہو اور مال کا اکثر حصہ غرباء میں تقسیم کر دیا۔جو غلام آپ نے آزاد کئے اُن میں ایک زید نامی غلام بھی تھا۔و دوسرے غلاموں سے زیادہ زیرک اور زیادہ ہوشیار تھا کیونکہ وہ ایک شریف اور معزز خاندان کا لڑکا تھا جسے بچپن میں ڈا کو چرا کر لے گئے تھے اور وہ بکتابکا تا مکہ میں پہنچا تھا۔اُس نوجوان نے اپنی زیر کی اور ہوشیاری سے اس بات کو سمجھ لیا کہ آزادی کی نسبت اس شخص کی غلامی بہت بہتر ہے۔جب آپ نے غلاموں کو آزاد کیا جن میں زید بھی تھا تو زید نے کہا آپ تو مجھے آزاد کرتے ہیں پر میں آزاد نہیں ہوتا ، میں آپ کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں۔چنانچہ وہ آپ کے ساتھ رہا اور روز بروز آپ کی محبت میں بڑھتا چلا گیا۔چونکہ وہ ایک مالدار خاندان کا لڑکا تھا اُس کے باپ اور چاڈاکوؤں کے پیچھے پیچھے اپنے بچہ کو تلاش کرتے ہوئے نکلے۔آخر انہیں معلوم ہوا کہ