انوارالعلوم (جلد 20) — Page 173
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۷۳ دیباچہ تفسیر القرآن دے کر نیکی کا وجود ہی مشتبہ کر دیا ہے۔اور جو یہ کہا گیا تھا کہ وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتائے گی۔اس کی تشریح میں استثناء باب ۱۸ کی پیشگوئی کے ماتحت کر آیا ہوں۔آئندہ کی خبروں کے متعلق جو کہا گیا ہے اس کیلئے صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جتنی آئندہ کی خبریں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہیں اور کسی نبی نے نہیں دیں۔اس پر کچھ روشنی آگے چل کر ڈالی جائے گی یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔اور یہ جو کہا گیا تھا کہ اُس کا کلام سارے کا سارا کلام اللہ ہو گا یہ بھی ایک ایسی پیشگوئی ہے جس کا اور کوئی مصداق نہیں ہو سکتا۔عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کی کوئی بھی تو کتاب نہیں جو انسانی کلام سے خالی ہو، لیکن قرآن کریم وہ کتاب ہے جس میں شروع سے لے کر آخر تک وہی بیان کیا گیا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اوروں کا تو کی ذکر کیا خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا بھی ایک لفظ اس کتاب میں نہیں۔آخر میں یہ جو کہا گیا تھا کہ ” وہ میری بزرگی کرے گی سو یہ بزرگی کرنے والے نبی بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔آپ ہی ہیں جنہوں نے مسیح کو اس الزام سے بچایا کہ وہ صلیبی موت سے مرکز نَعُوذُ بِالله لعنتی ہوا۔آپ ہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو اس الزام سے بچایا کہ نَعُوذُ بِالله خدائی کا دعوی کر کے وہ خدا تعالیٰ سے بیوفائی اور غداری کرتے تھے۔آپ ہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو یہودیوں کے اعتراضات سے نجات دلائی۔پس اس پیشگوئی کا مصداق آپ کی کے سوا کوئی نہیں۔( ز ) کتاب اعمال میں لکھا ہے:۔ضرور ہے کہ آسمان اُسے ( یعنی مسیح کو ) لئے رہے اُس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا اپنی حالت پر آویں۔کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اُٹھا دے گا۔جو کچھ وہ تمہیں کہے اُس کی سب سنو اور ایسا ہی ہوگا کہ ہر نفس جو اُس نبی کی نہ سنے وہ قوم میں سے نیست کیا جائے گا۔بلکہ سب نبیوں نے سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا ان دنوں کی خبر دی۔۱۸۱