انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 172

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۷۲ دیباچہ تفسیر القرآن میں نے ایسا کہا ہوتا تو تیرے علم سے یہ بات چھپ تو نہیں سکتی تھی۔جو کچھ میرے جی میں ہے تو جانتا ہے اور جس غرض سے تو نے یہ سوال کیا ہے میں اُسے نہیں جانتا تو سب غیبوں کو جاننے والا ہے میں نے تو انہیں وہی بات کہی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور جب تک میں اُن میں رہا اُن کا نگران رہا۔پھر جب ی تو نے مجھے وفات دے دی تو تو اُن کا خود نگران تھا اور تو ہر چیز دیکھنے بھالنے والا ہے۔اگر تو انہیں کی عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے۔ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور مسیح کی قوم نے اُس وقت اُن کو خدائی کا درجہ دے دیا جب وہ فوت ہو کر اس دنیا سے جاچکے تھے۔اور جیسا کہ پہلی آیت میں بیان کیا جا چکا ہے دنیا کو یہ بتا دیا کہ مسیح کے آسمان پر جانے کے معنے محض یہ ہیں کہ وہ اپنے کام میں کامیاب ہو کر اور باعزت ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔تیسری خبر یہ دی گئی تھی کہ شیطان اُس کے ذریعہ سے کچل دیا جائے گا۔تمام نبیوں میں سے محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم ہی ایک ایسے نبی ہیں جنہوں نے شیطان کے کچلنے کے ذرائع کو اختیار کیا اور بنی نوع انسان کی پاکیزگی کے لئے صحیح سامان بہم پہنچائے۔مگر اس کی تفصیل کا ابھی وقت نہیں۔اس کی تفصیل قرآن شریف کی تفسیر سے ملے گی یا کسی قدر آئندہ اسی دیباچے میں بیان کروں گا۔مگرا یک موٹی بات تو ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ کسی نبی نے بھی شیطان سے پناہ مانگنے کی دُعا اپنی اُمت کو نہیں سکھائی سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔مسلمان اپنے کاموں میں اُٹھتے بیٹھتے شیطان اور اس کے حملوں سے پناہ مانگتے ہیں۔یہ تعلیم گذشتہ انبیاء میں سے کسی کے ہاں نہیں پائی جاتی۔پس جس قوم کو شیطان کا سر کچلنے کی ہدایت دن اور رات ملتی رہی ہو اور جس کے دل شیطانی حکومت کے توڑنے کا احساس ہر وقت زندہ رکھا جاتا ہو ظاہر ہے کہ وہی شیطان کو کی مارنے کی اہل سمجھی جائے گی اور اسی قوم کا نبی شیطان کو مارنے والا کہلائے گا۔یہ تو نہ کبھی پہلے ہوا ہے نہ آئندہ ہو گا کہ شیطانی وسائل اس دنیا سے بالکل مٹ جائیں کیونکہ اس کے بغیر تو ایمان کی قدر ہی کوئی باقی نہیں رہتی۔شیطان کے مارنے کے معنے یہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ نیکی دنیا میں قائم کی جائے۔کلیسیا تو بہر حال اس کا مستحق نہیں ہو سکتا کیونکہ اُس نے تو شریعت کو لعنت قرار