انوارالعلوم (جلد 20) — Page 108
انوار العلوم جلد ۲۰ 1+1 اُسے ملک سے نکال دے یا سرین کٹوا دے۔۱۰۔پھر ادھیائے نمبر ۸ شلوک ۴۱ میں بھی لکھا ہے کہ:۔دیباچہ تفسیر القرآن براہمن بغیر کسی شک و شبہ کے شودر کا مال و دولت لے لے کیونکہ شودر کا تو اپنا 66 کچھ بھی نہیں بلکہ اُس کا سب کچھ اُس کے مالک براہمن کا ہی ہے۔۱۱۔ادھیائے نمبر ۸ شلوک ۴۱۳ میں لکھا ہے:۔” شودر چاہے براہمن کا خریدا ہوا ہو یا نہ خریدا ہوا ہو براہمن اُس سے ضرور غلامی کرائے کیونکہ بر ہما جی نے شودر کو پیدا ہی غلامی کے لئے کیا ہے۔۱۲۔پھر ادھیائے نمبر ۸ شلوک ۴۱۴ میں لکھا ہے:۔وو شودر آزاد کرنے پر بھی آزاد نہیں ہو سکتا بلکہ غلام ہی رہتا ہے کیونکہ غلامی شو در کی فطرتی چیز ہے وہ بھلا اُس سے علیحدہ ہوسکتی ہے۔۱۳۔پھر ادھیائے نمبر ۸ شلوک ۲۷۲ میں لکھا ہے:۔اگر شودر فخر کے ساتھ مذہبی مسائل بتانے شروع کر دے تو تیل کو خوب گرم کر کے اُس کے کانوں میں بھر دو“۔اس تعلیم سے ظاہر ہے کہ ہندو دھرم کے نزدیک سوائے چند مخصوص ذاتوں کے باقی سب لوگ خدا تعالیٰ کے فضل اور اُس کے رحم سے محروم ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن کے لئے ویدوں کا پڑھنا یا سنایا جانا گناہ ہے اور اگر وہ ایسی عبادت سے کام لیں کہ ویدوں کو پڑھیں یا سنیں یا یاد کریں تو اُن کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے حتی کہ انہیں قتل تک کر دینا چاہئے۔یہ تعلیم بتاتی ہے کہ ویدک دھرم صرف چندا قوام کے لئے تھا اور عالمگیر مذہب نہیں تھا۔برہمنوں، کھتریوں اور ویشوں کے سوا خدا تعالیٰ کی بہت سی مخلوق دنیا میں اور بھی پائی جاتی ہے ہے۔یہ قومیں تو صرف ہندوستان کی آبادی کا ایک حصہ ہیں مگر اُن سے کئی گنا آبادی اور کی ہندوستان سے باہر ملتی ہے۔اس تعلیم کی موجودگی میں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ لوگ کسی صورت میں بھی ہدایت پاسکتے ہیں۔مگر کیا خدائے رحیم و کریم کا یہ قانون ہوسکتا ہے؟ کیا ممکن ہے کہ وہ دنیا کے ایک حصہ کو ہدایت کے لئے پیدا کر دے اور دوسرے حصہ کو اپنی تقدیر کے ساتھ دوزخی