انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 105

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۰۵ دیباچہ تفسیر القرآن ( ۸۰ منتر ہیں ) کھل یعنی براہمن بھاگ یجروید میں ( یہ بھی کئی باب ہیں آرنیک اور سہا نامنی سوکت سام وید میں ) ( یہ دو باب ۶۵ منتر ہیں ) اور گنتاپ سُوکت اتھرو دید میں ملے ہوئے ہیں (یہ اکھٹے دس سوکت یعنی باب ہیں جن میں ۰ ۱۵ منتر ہیں ) اور ان کو سبھی جانتے ہیں اور ان سب کے متعلق مفصل ثبوت بھی موجود ہیں۔ان کے علاوہ کچھ مقامات یجروید اور اتھرو وید میں اور بھی ہیں جن کا علم ان فقروں اور منتروں کے پڑھنے سے ہو جاتا ہے کہ وہ ملاوٹی ہیں۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شاکھاؤں وید کے مختلف نسخوں ) کی گڑ بڑ کا سب کو علم ہے۔۔۔اور شدھ و یدک شا کھائیں موجود ہیں اِس طرح ملاوٹی حصہ کا بھی سب کو علم ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ واجنی ( یجر وید کے مروج نسخہ ) کے منتروں کی تعداد ۱۹۰۰ ہے جن میں شکری کے منتر ملے ہوئے ہیں۔کیونکہ لکھا ہے یعنی سو کم دو ہزار منتر واجنی کے ہیں اور انہی میں شکری کے بھی شامل ہیں۔جب یہ وا جنی سنہتا ہے تب اس میں منتر و اجنئی کے ہونے چاہئیں شکری کے نہیں۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ وا جنی کسنبتا کے منتروں کی تعداد ۱۹۷۵ ء ہے۔اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ شکری کے منتر ۱۹۰۰ میں ہی گھسے ہیں اور باقی ۷۵ منتر کہیں باہر سے لا کر جوڑے گئے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ بیان ویدوں کو تحریف سے بُری نہیں کرتا بلکہ انہیں تحریف کا اقرار کراتا ہے۔ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ ویدوں کے پُرانے اور جدید علماء سب اس بات پر متفق ہیں کہ ویدوں میں دوسرے لوگوں کے منتر بھی شامل ہو گئے ہیں۔یہ کہنا کہ براہمنوں نے دریافت کر لیا تھا کہ فلاں منتر بناوٹی ہے اور فلاں اصلی ، یہ ایک بے معنی چیز ہے۔اگر وید کے علماء کو یقین ہو گیا ہے کہ فلاں فلاں منتر بناوٹی ہے تو اُن کو نکال کیوں نہیں دیا۔ان کا ویدوں کے اندر رکھنا بتاتا ہے کہ ویدوں کے علماء کو یقین نہ تھا۔چنانچہ آریہ سماج کے مصنف نے آخر میں یہی لکھ دیا ہے کہ یجروید کے ۱۹۰۰ منتر اصلی ہیں باقی ۷۵ منتر کہیں باہر سے لا کر جوڑے گئے ہیں۔وو اور ان ۱۹۰۰ کے متعلق بھی لکھ دیا ہے کہ ان میں بھی کچھ شکری کے منتر ہیں باقی “ اور ” کچھ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ حقیقت کسی کو بھی معلوم نہیں۔ساری بنیا دوہم و قیاس پر رکھی جاتی ہے۔مگر