انوارالعلوم (جلد 20) — Page 90
انوار العلوم جلد ۲۰ ۹۰ دیباچہ تفسیر القرآن ۱۵۔متی باب ۱۰ آیت ۱۰ میں لکھا ہے کہ مسیح نے اپنے حواریوں سے کہا کہ راستہ کے لئے نہ جھولی دو نہ کرتے نہ جوتیاں نہ لاٹھی لو۔لیکن مرقس باب ۶ آیت ۸، ۹ میں لکھا ہے کہ مسیح نے اپنے حواریوں کو حکم دیا کہ سفر کے لئے سوائے لاٹھی کے کچھ نہ لو۔پھر لکھا ہے کہ جو تیاں پہنو۔گویا متی کی روایت کے مطابق تو جوتی سے بھی منع کیا گیا تھا اور لاٹھی سے بھی۔لیکن کی مرقس کی روایت کے مطابق لاٹھیاں لینے اور جو تیاں پہننے کا حکم تھا۔انجیل میں بعض تو ہمات کا ذکر انجیل کی تعلیم کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو ہمات سے بھی خالی نہیں۔چنانچہ:۔ا۔مرقس باب ۱ آیت ۱۲ ،۱۳ میں لکھا ہے : اور روح اسے فی الفور بیابان میں لے گئی اور وہ وہاں بیابان میں چالیس دن تک رہ کے شیطان سے آزمایا گیا اور جنگل کے جانوروں کے ساتھ رہتا تھا اور فرشتے اُس کی خدمت کرتے تھے۔یہ واقعات بالکل وہم ہیں اور الہی سنت ان امور کے بالکل خلاف ہے۔اس دنیا میں انسان انسانوں کے ساتھ ہی رہتا ہے نہ کہ جانوروں اور شیطانوں یا فرشتوں کے ساتھ۔کیا کوئی عظمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون پہلے اس دنیا کے لئے کچھ اور تھا اور اب کچھ اور ہو گیا ہے۔نہ تو اس دنیا میں شیطان کسی کے ساتھ ظاہری طور پر رہتے ہیں نہ فرشتے ظاہری طور پر خدمت کرتے ہیں۔کشفی طور پر ان نظاروں کا نظر آنا اور بات ہے۔ایسے کشفی نظارے نہ صرف پہلے ہوتے تھے بلکہ اب بھی ہوتے ہیں اور میں خود اس معاملہ میں تجربہ رکھتا ہوں۔لیکن یہ بات نہ پہلے ہوتی تھی نہ اب ہوتی ہے کہ انسان جانوروں میں رہ رہا ہو بھیڑیئے اور شیر اُس کے اردگرد بیٹھے ہوئے ہیں شیطان آتا ہے اور اُس کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور خدا کا وہ بندہ اُس کی کے پیچھے پیچھے پھرتا اور بلا وجہ اس کے احکام کو مانتا چلا جاتا ہے اور کبھی کبھی اُس سے بغاوت بھی کی کر دیتا ہے۔اسی طرح فرشتے آتے ہیں اُس کے لئے روٹی پکاتے ہیں، اس کے لئے ہنڈیا تیار کرتے ہیں ، اس کے لئے پانی مہیا کرتے ہیں۔کہانیوں کی کتابوں میں تو ایسی باتیں آسکتی ہیں لیکن مذہبی کتابوں کا ایسی باتوں سے کیا تعلق۔اگر نیا عہد نامہ کیلنگ کی جنگل بک“ کی طرح