انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 85

انوار العلوم جلد ۲۰ ۸۵ دیباچہ تفسیر القرآن عیسائیوں پر اعتراض کیا کہ تمہارا محض اسی بات پر انحصار رکھنا کہ تم حضرت مسیح پر ایمان لے آئے ہو اور ہر قسم کے عمل صالح کو باطل قرار دینا درست نہیں۔حضرت مسیح تو خود تسلیم کرتے ہیں کہ دعا اور روزہ بھی ضروری چیزیں ہیں اور یہ بھی کہ وہ دعا اور روزہ سے کام لیتے تھے۔تو جب دعا اور روزہ کی ضرورت ہے تو معلوم ہوا کہ محض حضرت مسیح پر ایمان انسان کو ہر قسم کی نیکی سے مستفیض اور نجات کا مستحق نہیں بنا سکتا۔یہ اعتراض ایسا زبردست تھا کہ عیسائی اس کا کوئی جواب نہ دے سکے اور انہوں نے اپنی خیر اسی میں سمجھی کہ اس آیت کو اناجیل میں سے نکال دیں۔چنانچہ موجودہ اناجیل میں ہمیں یہ آیت کہیں نظر نہیں آتی۔گویا ایک آیت کو کتاب میں سے خارج کر دیا گیا اور اس طرح ثابت کر دیا گیا کہ انجیل اب تک انسانی دست بُر دکا شکار ہو رہی ہے۔۵۔متی باب ۱۲ آیت ۴۰،۳۹ میں لکھا تھا کہ ایک موقع پر جب بعض فقیہوں اور فریسوں نے حضرت مسیح سے کہا کہ :۔”اے استاد ! ہم تجھ سے ایک نشان چاہتے ہیں“۔تو حضرت مسیح نے ان کو جواب دیا کہ:۔اس زمانہ کے بد اور حرامکار لوگ نشان ڈھوند تے ہیں پر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان انہیں دکھایا نہ جائے گا کیونکہ جیسا کہ یونس تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔ویسا ہی انسان کا بیٹا تین دن اور تین رات زمین کے دل میں ہوگا۔مذکورہ بالا آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح کی اصل پیشگوئی یہ تھی کہ جس طرح یونس نبی تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہے ، اسی طرح میں بھی تین دن اور تین رات کی قبر کے اندر رہوں گا اور یونس نبی سے میری مماثلت ثابت ہو جائے گی۔مگر انا جیل بتاتی ہیں کہ حضرت مسیج جمعہ کی شام کو قبر میں رکھے گئے ۱۰) اور جب اتوار کی صبح کو انہیں قبر میں دیکھا گیا تو وہ اس جگہ سے غائب تھے۔اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ صرف ایک دن اور دورات قبر میں رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے عیسائی دنیا سے مطالبہ کیا کہ جب حضرت مسیح کی پیشگوئی یہ تھی کہ لوگوں کو ویسا ہی نشان دکھایا جائے گا جیسے یونس نبی کے ذریعہ