انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 585

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۸۵ احمدیت کا پیغام قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ اوپر حدیث بیان کی جاچکی ہے اور قرآن کریم بھی المر' کے ذریعہ سے ۲۷۱ سال کا عرصہ اس زمانہ کو قرار دیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہزار سال تک دین کے آسمان پر چڑھنے کے عرصہ کو ملایا جائے تو یہ ۱۲۷ ہوتا ہے گویا دنیا سے اسلام کی روح کے غائب ہو جانے کا زمانہ قرآن کریم کی رو سے ۱۲۷۱ سال ہے یا تیرھویں صدی کا آخر۔جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ضرور ایک ہادی اور راہنما آیا کرتا ہے تا کہ دنیا ہمیشہ کے لئے شیطان کے قبضہ میں نہ چلی جائے اور خدا تعالیٰ کی حکومت ابدی طور پر دنیا سے مٹ نہ جائے۔پس ضروری تھا کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی شخص آتا۔وہ کوئی ہوتا مگر آنا ضرور تھا۔یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ آدم کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خبر لی۔نوح کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خبر لی۔ابراہیم کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خبر لی۔موسیٰ کے اتباع میں خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خبر لی ہیسٹی کے اتباع کی میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خبر لی لیکن سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں خرابی پیدا ہو تو خدا تعالیٰ اس کی خبر نہ لے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے متعلق تو یہ پیش گوئی تھی کہ چھوٹے چھوٹے مفاسد کو دور کرنے کے لئے آپ کی اُمت میں ہر صدی کے سر پر ایک مجد دمبعوث ہوا کرے گا۔کیا کوئی عقل اس کو تسلیم کر سکتی ہے کہ چھوٹے چھوٹے مفاسد کو دور کرنے کیلئے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددین ظاہر ہوتے رہیں جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَّنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا " لیکن اس عظیم الشان فتنہ کے موقع پر جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب سے دنیا میں انبیاء آنے لگے ہیں وہ اس فتنہ کی خبر دیتے چلے آئے ہیں، کوئی مامور نہ آئے ، کوئی ہادی نہ آئے ، کوئی راہنما نہ آئے ،مسلمانوں کو دین حقہ پر جمع کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آواز بلند نہ کی جائے، مسلمانوں کو تاریکی اور ظلمت کے گڑھے میں سے نکالنے کیلئے آسمان سے کوئی رسی نہ گرائی جائے۔وہ خدا جو ابتدائے عالم سے اپنے رحم و کرم کے نمونے دکھاتا چلا آیا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی