انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 582

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۸۲ احمدیت کا پیغام جماعت نہیں تھی اور کیا یہ قابل اعتراض بات ہے یا قابل تعریف بات ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایسی احمد یوں کو دوسری جماعتوں سے علیحدہ رکھنے کی وجہ کسی جماعت کے بنانے کی ضرورت کیا تھی ؟ یہی باتیں دوسرے مسلمانوں میں پھیلائی جانی چاہئے تھیں۔اس کا عقلی جواب یہ ہے کہ ایک کمانڈر انہی لوگوں کو لڑائی میں بھیج سکتا ہے جو فوج میں بھرتی ہو چکے ہوں جولوگ فوج میں بھرتی نہیں وہ ان کو بھیج کس طرح سکتا ہے؟ اگر جماعت ہی کوئی نہ بنائی جاتی تو بانی سلسلہ احمدیہ کس سے کام لیتا اور کس کو حکم دیتا اور ان کے خلفاء کس سے کام لیتے اور کس کو حکم کی دیتے۔کیا وہ بازار میں پھرنا شروع کرتے اور ہر مسلمان کو پکڑ کر کہتے کہ آج فلاں جگہ اسلام کے لئے ضرورت ہے تو وہاں جا اور وہ آگے سے یہ جواب دیتا کہ میں تو آپ کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ، اور پھر وہ اگلے آدمی کو جا پکڑتے اور پھر اس سے اگلے آدمی کو جا پکڑتے۔یہ ایک کی عقلی حقیقت ہے کہ جب کوئی منتظم کام کرنا ہو تو اس کے لئے ایک جماعت کی ضرورت ہوتی ہے بغیر ایسی جماعت کے کوئی منتظم کام نہیں ہو سکتا۔اگر کہو کہ جماعت تو بناتے لیکن سب میں ملے جلے رہتے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ جان کو جوکھوں میں ڈالنے والے کاموں کے لئے ہر شخص کہاں تیار ہوتا ہے۔ایسے کام تو دیوانے ہی کیا کرتے ہیں اور دیوانوں کو ہوشیاروں سے الگ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔اگر ہوشیار دیوانوں کو بھی اپنے جیسا بنالیں گے تو پھر ایسے کام کو کون کرے گا۔نیز دوسروں سے الگ رہنا خود بخود طبائع میں استعجاب پیدا کرتا ہے اور آپ ہی آپ لوگ اس کی کرید اور تجسس شروع کرتے ہیں اور آخر ایک دن اسی چیز کا شکار ہو جاتے ہیں جس کو مٹانے کے لئے وہ آگے بڑھتے ہیں۔پس سارے اعتراضات قلت تدبر کا نتیجہ ہیں۔اگر عقل سے کام لیا جائے تو سمجھ آ سکتا ہے کہ اصل میں وہی طریقہ درست ہے جو احمدیت نے اختیار کیا کی ہے۔اسی صحیح طریقے پر عمل کر کے وہ اسلام کے لئے قربانی کرنے والوں کی ایک جماعت پیدا کرسکی ہے اور جب تک وہ اس طریق پر عمل کرتی رہے گی روز بروز ایسے افراد کی تعداد کو بڑھاتی چلی جائے گی یہاں تک کہ کفر محسوس کرے گا کہ اب اسلام طاقت پکڑ گیا ہے اور وہ اسلام پر اپنی ساری طاقت کے ساتھ حملہ کرے گا مگر حملے کا وقت گذر چکا ہوگا۔میدان اسلام ہی