انوارالعلوم (جلد 20) — Page 43
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۳ دیباچہ تفسیر القرآن مختلف فلسفوں نے انسانی دماغ کو خاص خاص راستوں پر چلایا ہے اور اس کے نتیجہ میں افکار نے جوصورت اختیار کی ہے وہ اخلاق اور آرٹ کی نقل میں ایسی مخصوص نوعیتیں اختیار کر گئی ہے کہ دیکھنے والا مختلف مذاہب کے سچے پیروؤں کے اصولِ اخلاق اور آرٹ کے ظہور کو جدا جدا صورتوں میں دیکھتا ہے اور یہی چیز کلچر ہے۔مختلف کلچر بھی قوموں میں کچھ بھی قوموں میں اختلاف کرنے کا موجب ہوتی ہے۔آج دنیا میں دہریت غالب ہے۔آج دنیا میں اختلاف کا موجب ہیں وسعت خیالی کا دعوی کیا جاتا ہے۔مگر باوجود اس کے ایک عیسائی کہلانے والے دہریہ اور ایک متعصب عیسائی میں جس سہولت کے ساتھ جوڑ اور اتفاق ہو جاتا ہے اس سہولت کے ساتھ اس عیسائی کہلانے والے دہریہ کا مسلمان کہلانے والے دہریہ سے یا ایک متعصب عیسائی کا ایک متعصب مسلمان سے اتفاق نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ زمانہ کے اختلاف میں پولیٹیکل خیالات کا بھی جو کہ تمدن یعنی سویلیز یشن کا نتیجہ ہیں بہت کچھ دخل ہے مگر کلچر کے اختلاف کا بھی اس سے کم دخل نہیں۔مسلمان خواہ یورپ کا رہنے والا ہو جب اُسے ایشیائی مسلمان ملتا ہے تو جس طرح اس کے دل کی کلی کھل جاتی ہے اس طرح یورپ کے عیسائی کے ساتھ ملنے سے نہیں کھلتی۔جس طرح یورپ کے ایک متعصب عیسائی کے دل کی کلی امریکہ کے ایک دہر یہ عیسائی کے ساتھ مل کر کھل جاتی ہے اس طرح یورپ کے ایک مسلمان کے ساتھ مل کر نہیں کھلتی۔کیا اس کی وجہ تعصب مذہب ہے؟ یقیناً نہیں۔کیونکہ اگر تعصب مذہب اس کا باعث ہوتا تو چاہئے تھا کہ یہ تعصب ایک عیسائی کو مسلمان کی نسبت ایک دہریہ کا زیادہ مخالف بنا تا لیکن ایسا جی نہیں ہوتا۔پس اصل وجہ یہی ہے کہ ایک عیسائی خواہ وہ دہر یہ ہو گیا ہو مگر اُس کی تہذیب یا کلچر عیسائی ہے۔اس کا فکر تو عیسائیت سے آزاد ہو گیا ہے مگر اُس کی طبیعت اور افعال عیسائیت کی تہذیب سے آزاد نہیں ہوئے۔کیونکہ نسلوں کا اثر ایک دم مٹایا نہیں جاسکتا۔ایک آرٹسٹ خواہ دہر یہ ہو اس کی تصویر ہیں ، اس کی میوزک اور اس کی تعمیر عیسائی کلچر سے جدا نہیں ہو سکتی اور اگر وہ کی جدا ہو گی تو ایک بھونڈی سی چیز نظر آئے گی جیسے گلاب کے باغ میں کیکر کا درخت لگا دیا جائے۔