انوارالعلوم (جلد 20) — Page 44
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۴ دیباچہ تفسیر القرآن اس تشریح کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمدن اور تہذیب کے دور کبھی تو الگ الگ آتے ہیں اور کبھی ایک ہی وقت میں ظاہر ہوتے ہیں۔یعنی کبھی کسی ملک میں تمدنی دور آیا ہے لیکن تہذیبی دور نہیں آیا اور کبھی تہذیبی دور آیا ہے اور تمدنی دور نہیں آیا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے روم اپنے اقتدار کی حالت میں ایک اچھے تمدن کا نمونہ پیش کرنے والا تھا لیکن اس کی کوئی تہذیب یا کلچر نہیں تھا۔اُس کا آرٹ اور اُس کا فلسفہ مقررہ ابتدائی اصول کے تابع نہ تھا بلکہ ہر شخص کا ذہن آزادانہ طور پر کام کر رہا تھا۔مسیح کے زمانہ میں پہلی چند صدیوں میں عیسائیت نے کوئی تمدن تو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا لیکن ایک اعلیٰ درجہ کی تہذیب اور کلچر پیش کیا۔وہ بھی ایک اصول اور ایک خاص دائرہ کے اندر کام کرنے والے لوگ تھے مگر ان کے اصول اور ان کے دائرے مذہب کے تعین کردہ تھے۔لیکن روم کے اصول اور دائرے مادیات کے مقرر کردہ تھے۔پس ابتدائی روم تمدن کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا اور ابتدائی عیسائیت کلچر کا ایک اعلیٰ نمونہ تھی۔روم کے دوسرے دور ترقی میں تمدن اور کلچر مل گئے۔روم نے جب عیسائیت قبول کی تو اس میں تمدن بھی تھا اور تہذیب بھی تھی لیکن اس کا تمدن تہذیب کے تابع تھا جیسا کہ آجکل یورپ میں تمدن بھی ہے اور تہذیب بھی ہے مگر بوجہ مادیت کے غلبہ کے اُس کی تہذیب اُس کے تمدن کے تابع ہے۔تہذیب و تمدن کے مختلف ادوار ہم تاریخ عالم کے ابتدائی دوروں میں دیکھتے ہیں کہ جہاں جہاں مذہب نے اچھا فلسفہ، اخلاق اور اچھی تہذیب پیدا کی ہے وہ ہمارے زمانہ کے بہت قریب آگئی ہے اور جہاں جہاں مادیت نے عمدہ تمدن پیدا کیا ہے وہ تمدن ہمارے تمدن کے بہت قریب آ گیا ہے، لیکن دو فرق کی نمایاں نظر آتے ہیں۔اسلام سے پہلے کا تمدن اور ایک ہی جڑ کی شاخیں نظر نہیں آتیں یا اگر نظر آتی ہیں تو نامکمل صورت میں۔یہودی مذہب میں بیشک تمدن کو تہذیب کے ساتھ ملانے کی کوشش کی گئی ہے اور تورات نے بہت حد تک سوسائٹی کے نظم ونسق کو اور اس کی مادی ترقی کو بھی مذہب کے دائرہ میں لانے کی کوشش کی ہے مگر بائبل کی یہ کوشش ابتدائی کوشش تو کہلا سکتی ہے کامیاب اور آخری کوشش نہیں کہلا سکتی۔یہی حال ہندو مذہب اور زرتشتی مذہب کا ہے۔