انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 398

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۹۸ دیباچہ تفسیر القرآن میں نے کہا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے موسیٰ سے افضل بنایا ہے۔آپ نے فرمایا ایسا نہیں کرنا چاہئے۔دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے مجھے موسیٰ پر فضلیت نہ دیا کرو۔۴۵۳ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ اپنے آپ کو موسیٰ سے افضل نہ سمجھتے تھے بلکہ مطلب یہ تھا کہ یہ فقرہ کہنے سے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے موسیٰ پر فضلیت عطا فرمائی ہے یہودیوں کے دلوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔غرباء کا خیال اور اُن کے جذبات کا احترام آپ ہمیشہ غرباء کے حالات کو درست رکھنے کی کوشش رکھتے اور اُن کو سوسائٹی میں مناسب مقام دینے کی سعی فرماتے۔ایک دفعہ آپ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک امیر آپ کے سامنے سے گزرا آپ نے ایک ساتھی سے دریافت کیا کہ اس شخص کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا یہ معزز اور امیر لوگوں میں سے ہے اگر یہ کسی لڑکی سے چھ نکاح کی خواہش کرے تو اس کی درخواست قبول کی جائے گی اور اگر یہ کسی کی سفارش کرے تو ہو اس کی سفارش مانی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کر خاموش رہے۔اس کے بعد ایک اور شخص گزرا جو غریب اور نادار معلوم ہوتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ساتھی سے پوچھا اس کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ غریب آدمی ہے اور اس لائق ہے کہ اگر یہ کسی کی لڑکی سے نکاح کی درخواست کرے تو اس کی درخواست قبول نہ کی جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ مانی جائے اور اگر یہ باتیں سنانا چاہے تو اس کی باتوں کی طرف توجہ نہ کی جائے۔یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی غریب آدمی کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہے کہ ساری دنیا سونے سے بھر دی جائے۔۲۵۴ ایک غریب عورت مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دن اُس کونہ دیکھا تو آپ نے پوچھا وہ عورت نظر نہیں آتی۔لوگوں نے بتایا کہ وہ فوت ہو گئی ہے۔آپ نے فرمایا جب وہ فوت ہو گئی تھی تو تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی کہ میں بھی اُس کے جنازہ میں شامل ہوتا پھر فرمایا شاید تم نے اس کو غریب سمجھ کر حقیر جانا۔ایسا کرنا درست نہیں تھا مجھے بتاؤ اس کی قبر کہاں ہے پھر آپ اُس کی قبر پر گئے اور اُس کے لئے دعا کی۔۴۵۵