انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 395

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۹۵ دیباچ تفسیر القرآن نے ان کا رکھا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور اپنے صحابہ سے کہا دیکھو! یہ ٹھیک کہتا ہے۔میرے ماں باپ نے میرا نام محمد ہی رکھا تھا جو نام یہ لینا چاہتا ہے اسے لینے دو اور اس پر غصہ کا اظہار نہ کرو۔آپ جب باہر کام کے لئے نکلتے تو بعض لوگ آپ کا رستہ روک کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی ضرورتیں بیان کرنی شروع کر دیتے۔جب تک وہ لوگ اپنی ضرورتیں بیان نہ کر لیتے آپ کھڑے رہتے جب وہ بات ختم کر لیتے تو آپ آگے چل پڑتے۔اسی طرح بعض لوگ مصافحہ کرتے وقت دیر تک آپ کا ہاتھ پکڑے رکھتے۔گو یہ طریق ناپسندیدہ ہے اور کام میں روک پیدا کرنے کا موجب ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے بلکہ جب تک وہ مصافحہ کرنے والا آپ کے ہاتھ کو پکڑے رکھتا آپ بھی اپنا ہا تھ اس کے ہاتھ میں رہنے دیتے۔ہر قسم کے حاجت مند آپ کے پاس آتے اور اپنی حاجتیں پیش کرتے۔بعض دفعہ آپ مانگنے والے کو اُس کی ضرورت کے مطابق کچھ دے دیتے تو وہ اپنی حرص سے مجبور ہو کر اور زیادہ کا مطالبہ کرتا اور آپ پھر بھی اُس کی خواہش پورا کر دیتے۔بعض دفعہ لوگ کئی بار مانگتے چلے جاتے اور آپ اُن کو ہر دفعہ کچھ نہ کچھ دیتے چلے جاتے۔جو شخص خاص طور پر مخلص نظر آتا ہی اُسے اُس کے مانگنے کے مطابق دے دینے کے بعد صرف اتنا فرما دیتے کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تم خدا پر توکل کرتے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک مخلص صحابی نے متواتر اصرار کر کے آپ سے کئی دفعہ اپنی ضرورتوں کے لئے روپیہ مانگا۔آپ نے اُس کی خواہش کو پورا تو کر دیا، مگر آخر میں فرمایا سب سے اچھا مقام تو یہی ہے کہ انسان خدا پر توکل کرے۔اس صحابی کے اندر اخلاص تھا اور ادب بھی تھا جو کچھ وہ لے چکا ادب سے اُس نے واپس نہ کیا لیکن آئندہ کے متعلق اُس نے عرض کی کیا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ میری آخری بات ہے اب میں آئندہ کسی سے کسی صورت میں بھی سوال نہیں کروں گا۔ایک دفعہ جنگ ہو رہی تھی غضب کا معرکہ پڑ رہا تھا، نیزے پھینکے جا رہے تھے، تلواریں کھٹا کھٹ گر رہی تھیں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔سپاہی پر سپاہی ٹوٹا پڑ رہا تھا کہ اُس صحابی کے ہاتھ سے عین اُس وقت جبکہ وہ دشمن کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے کوڑا گر گیا۔ایک ہمرا ہی