انوارالعلوم (جلد 20) — Page 358
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۵۸ دیباچهتفسیر القرآن۔کیا اور فرمایا اے لوگو! مجھے تمہارے مالوں میں سے اس بال کے برابر بھی ضرورت نہیں سوائے اُس پانچویں حصہ کے جو عرب کے قانون کے مطابق حکومت کا حصہ ہے اور وہ پانچواں حصہ بھی میں اپنی ذات پر خرچ نہیں کرتا بلکہ وہ بھی تمہیں لوگوں کے کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے۔اور یا درکھو کہ خیانت کرنے والا انسان قیامت کے دن خدا کے حضور اس خیانت کی وجہ سے ذلیل ہو گا۔لوگ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہت کے خواہشمند تھے۔کیا بادشاہوں اور عوام کا ایسا ہی تعلق ہوا کرتا ہے؟ کیا کسی کی طاقت ہوتی ہے کہ بادشاہ کو اس طرح دھکیلتا ہوا کج لے جائے اور اس کے گلے میں پٹکہ ڈال کر اُس کو گھونٹے ؟ اللہ کے رسولوں کے سوا یہ نمونہ کون دکھا سکتا ہے۔مگر باوجود اس طرح تمام اموال غرباء میں تقسیم کرنے کے پھر بھی ایسے سنگدل لوگ موجود تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کو انصاف کی تقسیم نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ ذوالخویصرہ نامی ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا۔اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) جو کچھ آپ نے آج کیا ہے وہ میں نے دیکھا ہے۔آپ نے فرمایا تم نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا میں نے یہ دیکھا ہے کہ آپ نے آج ظلم کیا ہے اور انصاف سے کام نہیں لیا۔آپ نے فرمایا تم پر افسوس! اگر میں نے عدل نہیں کیا تو پھر اور کون انسان دنیا میں عدل کرے گا۔اُس وقت صحابہ جوش میں کھڑے ہو گئے اور جب یہ شخص مسجد سے اُٹھ کر گیا تو ان میں سے بعض نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ شخص واجب القتل ہے کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم اسے مار دیں؟ آپ نے فرمایا اگر یہ شخص قانون کی پابندی کرتا ہے تو ہم اس کو کس طرح مار سکتے ہیں۔صحابہ نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! ایک شخص ظاہر کچھ اور کرتا ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے کیا ایسا شخص سزا کا مستحق نہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ کی میں لوگوں سے ان کے دلوں کے خیالات کے مطابق معاملہ کروں۔مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اُن کے ظاہر کے مطابق معاملہ کروں۔پھر آپ نے فرمایا یہ اور اس کے ساتھی ایک دن اسلام سے بغاوت کریں گے۔۳۷۷ چنانچہ حضرت علی کے زمانہ میں یہ شخص اور اس کی کے قبیلہ کے لوگ اُن باغیوں کے سردار تھے جنہوں نے حضرت علیؓ سے بغاوت کی اور خوارج کے نام سے آج تک مشہور ہیں۔