انوارالعلوم (جلد 20) — Page 318
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۱۸ سنایا تو کسری نے غصہ سے خط پھاڑ دیا۔جب عبد اللہ بن حذافہ نے یہ خبر آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تو آپ نے فرمایا۔کسری نے جو کچھ ہمارے خط کے ساتھ کیا خدا تعالیٰ اس کی بادشاہت کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا۔کسری کی اس حرکت کا باعث یہ تھا کہ عرب کے یہودیوں نے اُن یہودیوں کے ذریعہ سے جو روم کی حکومت سے بھاگ کر اسیران کی حکومت میں چلے گئے تھے اور بوجہ رومی حکومت کے خلاف سازشوں میں کسری کا ساتھ دینے کے کسری کے بہت منہ چڑھے ہوئے تھے کسریٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہت بھڑ کا رکھا تھا۔جو شکایتیں وہ کر رہے تھے اس خط نے کسریٰ کے خیال میں اُن کی تصدیق کر دی اور اس نے خیال کیا کہ یہ شخص میری حکومت پر نظر رکھتا ہے۔چنانچہ اس خط کے معا بعد کسر می نے اپنے یمن کے گورنر کو ایک چٹھی لکھی جس کا مضمون یہ تھا کہ قریش میں سے ایک شخص نبوت کا دعوی کر رہا ہے اور اپنے دعوؤں میں بہت بڑھتا چلا جاتا ہے تو فوراً اس کی طرف دو آدمی بھیج جو اُس کو پکڑ کر میری خدمت میں حاضر کریں۔اس پر باذان نے جو اُس وقت کسریٰ کی طرف سے یمن کا گورنر تھا ایک فوجی افسر اور ایک سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھجوائے اور ایک خط بھی آپ کی طرف لکھا کہ آپ اس خط کے ملتے ہی فوراً ان لوگوں کے ساتھ کسری کے دربار میں حاضر ہو جائیں۔وہ افسر پہلے مکہ کی طرف گیا۔طائف کے قریب پہنچ کر اُسے معلوم ہوا کہ آپ مدینہ میں رہتے ہیں۔چنانچہ وہ وہاں سے مدینہ گیا۔مدینہ پہنچ کر اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ کسری نے باذان گورنر یمن کو حکم دیا ہے کہ آپ کو پکڑ کر اُس کی خدمت میں حاضر کیا جائے۔اگر آپ اس حکم کا انکار کریں گے تو وہ آپ کو بھی ہلاک کر دے گا اور آپ کی قوم کو بھی ہلاک کر دے گا اور آپ کے ملک کو برباد کر دے گا اس لئے آپ ضرور ہمارے ساتھ چلیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی بات سن کر فرمایا۔اچھا کل پھر تم مجھ سے ملنا۔رات کو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور خدائے ذوالجلال نے آپ کو خبر دی کہ کسریٰ کی گستاخی کی سزا میں ہم نے اس کے بیٹے کو اُس پر مسلط کر دیا ہے چنانچہ وہ اُسی سال جمادی الاولیٰ کی دسویں تاریخ پیر کے دن اس کو قتل کر دے گا اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا آج کی رات اس نے اُسے قتل کر دیا ہے ممکن ہے وہ رات وہی دس جمادی الاولیٰ کی رات ہو۔جب صبح ہوئی