انوارالعلوم (جلد 20) — Page 317
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۱۷ خاندان کی حکومت قسطنطنیہ میں قائم رہی۔روم کی حکومت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط بہت دیر تک محفوظ رہا۔چنانچہ بادشاہ منصور قلادون کے بعض سفیر ایک دفعہ بادشاہ روم کے پاس گئے تو بادشاہ نے ان کو دکھانے کے لئے ایک صندوقچہ منگوایا اور کہا کہ میرے ایک دادا کے نام تمہارے رسول کا ایک خط آیا تھا جو آج تک ہمارے پاس محفوظ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط فارس کے فارس کے بادشاہ کے نام خط پادشاہ کی طرف لھا تھاوہ عبداللہ بن حذافہ کی معرفت بجھوایا گیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے:۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ـ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللَّهِ إِلَى كِسْرَى عَظِيمٍ الْفَارِس - سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - وَامَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَشَهِدَ أَنْ لا إِلهُ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ وَ اَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ فَإِنِّي أَنَا رَسُوْلَ اللهِ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، لَا نُذِرَمَنْ كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ أَسْلِمُ تَسْلَمُ فَإِنْ أَبَيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْمَجُوسِ - ۳۳۳ یعنی اللہ کا نام لے کر جو بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے یہ خط محمد رسول اللہ نے کسری فارس کے سردار کی طرف لکھا ہے۔جو شخص کامل ہدایت کی اتباع کرے اور اللہ پر اور اُس کے رسول پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اُس پر خدا کی سلامتی ہو۔اے بادشاہ! میں تجھے خدا کے حکم کے ماتحت اسلام کی طرف بلا تا ہوں کیونکہ میں تمام انسانوں کی طرف خدا کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تا کہ ہر زندہ شخص کو میں ہوشیار کر دوں اور کافروں پر حجت تمام کر دوں۔تو اسلام قبول کرتا تو ہر ایک فتنہ سے محفوظ رہے اگر تو اس دعوت سے انکار کرے گا تو سب مجوس کا گناہ تیرے ہی سر پر ہوگا۔عبداللہ بن حذافہ کہتے ہیں کہ جب میں کسری کے دربار میں پہنچا تو میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی جو دی گئی۔جب میں نے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط کسری کے ہاتھ میں دیا تو اُس نے ترجمان کو پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔جب ترجمان نے اس کا ترجمہ پڑھ کر