انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 194

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۹۴ دیباچ تفسیر القرآن سے باہر لے جا کر تپتی ہوئی ریت پر ننگا کر کے لٹا دیتا تھا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ کر کہتا تھا کہ لات اور عزیٰ کی الوہیت کو تسلیم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے علیحدگی کا اظہار کر۔بلال اُس کے جواب میں کہتے اَحَدٌ اَحَدٌ ۱۹۶ یعنی اللہ ایک ہی ہے اللہ ایک ہی ہے۔بار بار آپ کا یہ جواب سن کر اُمیہ کو اور غصہ آجاتا اور وہ آپ کے گلے میں رسہ ڈال کر شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور کہتا کہ ان کو مکہ کی گلیوں میں پتھروں کے اوپر سے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں۔جس کی وجہ سے اُن کا بدن خون سے تر بتر ہو جا تا مگر وہ پھر بھی اَحَدٌ اَحَدٌ کہتے چلے جاتے ، یعنی خدا ایک خدا یک۔عرصہ کے بعد جب خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو مدینہ میں امن دیا جب وہ آزادی سے عبادت کرنے کے قابل ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو اذان دینے کے لئے مقرر کیا۔یہ حبشی غلام جب اذان میں اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللہ کی بجائے أَسْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللہ کہتا تو مدینہ کے لوگ جو اُس کے حالات سے ناواقف تھے ہنسنے لگ جاتے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلال کی اذان پر ہنستے ہوئے پایا تو کی آپ لوگوں کی طرف مڑے اور کہا تم بلال کی اذان پر ہنستے ہومگر خدا تعالیٰ عرش پر اُس کی اذان سن کر خوش ہوتا ہے۔آپ کا اشارہ اسی طرف تھا کہ تمہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ یہ ”ش“ نہیں بول سکتا۔مگر ش“ اور ”س“ میں کیا رکھا ہے خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ جب تپتی ریت پر نگی پیٹھ کے ساتھ اس کو لٹا دیا جاتا تھا اور اس کے سینہ پر ظالم اپنی جوتیوں سمیت کو دا کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ کیا اب بھی سبق آیا ہے یا نہیں ؟ تو یہ اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں اَحَدٌ اَحَدٌ کہہ کر خدا تعالیٰ کی تو حید کا اعلان کرتا رہتا تھا اور اپنی وفاداری ، اپنے تو حید کے عقیدہ اور اپنے دل کی مضبوطی کا ثبوت دیتا تھا۔پس اُس کا اسهَدُ بہت سے لوگوں کے اشہد سے زیادہ قیمتی تھا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب اُن پر یہ ظلم دیکھے تو اُن کے مالک کو اُن کی قیمت ادا کر کے اُنہیں آزاد کروا دیا۔اسی طرح اور بہت سے غلاموں کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے مال سے آزاد کرایا۔ان غلاموں میں سے صہیب ایک مالدار آدمی تھے۔یہ تجارت کرتے تھے اور مکہ کے با حیثیت آدمیوں میں سمجھے جاتے تھے مگر باوجود اس کے کہ وہ مالدار بھی تھے اور آزاد بھی ہو چکے تھے قریش اُن کو مار مار کر بیہوش کر دیتے تھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ