انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 119

انوار العلوم جلد ۲۰ ١١٩ دیباچہ تفسیر القرآن کے قبضہ میں نہ رہے گا۔چنانچہ اس طرف حضرت داؤڈ کے ایک کلام سے اشارہ بھی نکلتا ہے جہاں تو رات میں لکھا ہے کہ قیامت تک بنو اسحاق اس ملک پر قابض رہیں گے وہاں حضرت داؤد نے اس پیشگوئی کو دوسرے الفاظ میں پیش کیا ہے وہ فرماتے ہیں:۔صادق زمین کے وارث ہوں گے اور ابد تک اُس میں بسیں گئے۔۱۰۴ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنو اسحاق کی تباہی کا وقت قریب آ رہا تھا۔اب نبیوں کا کلام دنیا کی توجہ اس طرف پھرا رہا تھا کہ اب وہ نسلی وعدہ بدل کر روحانی شکل اختیار کرنے والا ہے اور بنو اسمعیل راستباز بن کر ابراہیمی پیشگوئیوں کے وارث بننے والے ہیں اور ایک نیا عہد اُن کے ذریعہ سے شروع ہونے والا ہے۔اگر یہ بات نہیں تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ماننے والے بنو اسمعیل کو فلسطین کی زمین میں کیوں غالب کر دیا۔اُس نے تو صاف طور پر عہد کیا تھا کہ فلسطین کی زمین بنو اسحاق کو دی جائے گی۔اگر وہ عہد ایک اور قوم کے ذریعہ سے پورا نہیں ہونا تھا تو یہ تبدیلی خدا تعالیٰ نے کس طرح گوارا کی۔اگر یہ تبدیلی چند سال کے لئے عارضی طور ہوتی تو کوئی بات نہ تھی کیونکہ قومی زندگیوں میں اُتار چڑھاؤ ہو ہی جایا کرتے ہیں لیکن یہ تبدیلی تو ای اتنی لمبی چلی کہ آج تیرہ سو سال کے بعد بھی فلسطین کے اکثر حصہ پر مسلمان اور اسمعیل کی اولاد قابض ہیں۔یورپ اور امریکہ زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح ان حالات کو بدل دیں لیکن اب تک وہ کامیاب نہیں ہوئے اور اگر کوئی کامیابی اُن کو حاصل بھی ہوئی تو وہ عارضی ہو گی یا بنواسرائیل مسلمان ہو کر نئے عہد کے ذریعہ سے ایک نئی زندگی فلسطین میں پائیں گے اور یا پھر وہ دوبارہ فلسطین میں سے نکال دیئے جائیں گے کیونکہ فلسطین اُن لوگوں کے ہاتھ میں رہے گا جو ابرا نیمی عہد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔مسیحی لوگ بھی اپنے آپ کو ابراہیمی عہد کا پورا کرنے والا قرار دیتے ہیں لیکن تعجب ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس عہد کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ قوم ختنہ کروائے گی لیکن عیسائی تو ختنہ سے آزاد ہو چکے ہیں۔ہاں بنو اسمعیل جو تیرہ سو سال سے فلسطین پر قابض ہیں وہ قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے بھی ختنہ کرواتے تھے اور اب بھی ختنہ کرواتے ہیں۔غرض جیسا کہ ان پیشگویوں میں بتایا گیا تھا کہ اسمعیل اور اسحاق دونوں کو برکت دی جائے گی وہ پیشگوئیاں پوری ہونی ضروری تھیں۔بنو اسحاق کو اُن کے وعدہ کے مطابق