انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 118

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۱۸ دیباچہ تفسیر القرآن ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے اسمعیل اور اسحاق کی تھے۔اسمعیل بڑے بیٹے تھے اور اسحاق دوسرے بیٹے تھے خدا تعالیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عہد تھا کہ وہ اُن کی نسل کو بڑھائے گا اور بابرکت کرے گا۔یہ با برکت کرنے کے الفاظ حضرت اسحاق کے متعلق بھی ہیں اور حضرت اسماعیل کے متعلق بھی ہیں۔اسی طرح نسل کے بڑھانے کے الفاظ بھی حضرت اسحاق کے متعلق بھی ہیں اور حضرت اسماعیل کے متعلق بھی ہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسمعیل فاران کے بیابان میں رہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کنعان کی زمین حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کو دے دی گئی تھی اور پھر یہ بھی کہ خدا تعالیٰ کے اس عہد کی علامت یہ ہوگی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نرینہ نسل کا ختنہ کیا جائے گا۔ان پیشگوئیوں کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اسحاق کی نسل کو بڑی ترقی نصیب ہوئی اور خدا تعالیٰ نے جو عہد حضرت اسحاق سے باندھا تھا وہ بڑی شان سے پورا ہوا۔حضرت موسیٰ اور حضرت داؤ د اور حضرت حزقیل اور حضرت دانی ایل اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام اُن کی نسل سے ظاہر ہوئے اور دنیا کے لئے بڑی رحمت کا موجب ثابت ہوئے۔کنعان کا ملک دو ہزار سال تک اُن کے قبضہ میں رہا سوائے ایک خفیف وقفہ کے کہ اس وقفہ میں بھی وہ ملک کلی طور پر اُن کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔صرف وہ اس میں کمزور ہو گئے تھے۔لیکن ساتویں صدی بعد مسیح میں اسحاق کی اولاد اور موسیٰ کی تعلیم پر ظاہری طور پر چلنے والے لوگوں کو کلی طور پر کنعان کے ملک سے دست بردار ہونا پڑا اور اس ملک میں اسمعیل کی اولا د سیاسی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی غالب آ گئی۔بنی اسرائیل کا اُس زمانہ میں کنعان سے نکالا جانا صاف بتا تا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی معرفت جو وعدہ کیا گیا تھا اب اُس کے مستحق بنی اسرائیل یا اُن کے متعلق خاندان نہیں رہے تھے۔مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں قیامت تک یہ ملک بنی اسرائیل کے قبضہ میں رکھوں گا اور خدا کی بات جھوٹی نہیں ہو سکتی۔پس صاف ظاہر ہے کہ قیامت کے معنی ظاہری قیامت کے نہیں بلکہ ایک کی نئی شریعت کے ظہور کے ہیں جو الہامی اصطلاح میں نیا آسمان اور نئی زمین بنانا کہلاتا۔لازماً قیامت کے برپا ہوئے بغیر نیا آسمان اور نئی زمین نہیں بنائے جا سکتے۔پس قیامت تک بنو اسحاق کے قبضہ کے یہی معنی تھے کہ جب ایک نیا شرعی نبی آئے گا تو اُس وقت یہ ملک بنو اسحاق ہے اور