انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 111

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچهتفسیر القرآن سے سینکڑوں سال پہلے واقعہ ہو چکی ہے ایک ایسے کلام کی ضرورت تھی جو ان تمام نقائص سے پاک ہو اور وہ کلام قرآن کریم ہے۔ویدوں میں تناقض چونکہ ویدوں میں مختلف زمانوں میں مختلف لوگوں نے دست اندازی کی ہے اس لئے اُن کے مضامین میں بہت کچھ تاقش بھی پیدا ہو گیا ہے۔چنانچہ ہم ذیل میں اس تناقض کی چند مثالیں بیان کرتے ہیں:۔ویدوں میں یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ سورج کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اور اس کا جواب مختلف ویدوں میں دیا گیا ہے۔چنانچہ ر گوید منڈل نمبر ۹ سوکت ۹۶ منتر نمبر ۵ میں لکھا ہے: سورج کو کیلے سوم دیوتا نے پیدا کیا تھا“۔لیکن رگوید منڈل نمبر ۸ سوکت ۳۶ منتر نمبر ۴ہ میں لکھا ہے:۔وو سورج کو کیلے اندر دیوتا نے پیدا کیا تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ وہی کتاب ایک باب میں تو کہتی ہے کہ سورج کو اکیلے سوم دیوتا نے کی پیدا کیا تھا اور دوسرے باب میں یہ کہتی ہے کہ سورج کو کیلے اندر دیوتا نے پیدا کیا تھا،لیکن دوسرے وید تو اور بھی کمال کر دیتے ہیں۔یجر ویدا دھیائے ۱۳ منتر ۱۲ میں لکھا ہے:۔سورج کو اکیلے برہما نے اپنی آنکھ سے پیدا کیا تھا“۔گویا رگوید تو کیلے سوم دیوتا اور ا کیلئے اندر دیوتا سے سورج کو پیدا شدہ قرار دیتا ہے لیکن یجر وید نہ اُسے سوم دیوتا کا پیدا کیا ہوا قرار دیتا ہے نہ اندر دیوتا کا بلکہ اُسے برہما دیوتا کا پیدا کیا ہوا بتا تا ہے اور بتاتا ہے کہ اُسے برہما نے پیدا بھی اپنی آنکھ سے کیا تھا۔اتھر و وید اس کے بالکل خلاف ایک اور ہی حقیقت بیان کرتا ہے۔اس میں لکھا ہے:۔سب دیوتاؤں نے مل کر سورج کو پیدا کیا تھا۔۹۱ اتھرو دید کی اس روایت نے حقیقت بالکل ہی بدل دی۔وہ سورج کو نہ اکیلے سوم دیوتا کاتی پیدا کیا ہوا قرار دیتا ہے نہ اندر دیوتا کا نہ برہما کا بلکہ وہ سب دیوتاؤں کو اُس کی پیدائش میں شریک قرار دیتا ہے۔۲۔ویدوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سورج پہلے زمین پر تھا پھر اُس کو اُٹھا کر آسمان پر لے گئے۔