انوارالعلوم (جلد 20) — Page 110
انوار العلوم جلد ۲۰ 11۔دیباچہ تفسیر القرآن تیل وغیرہ چھڑ کنا محض ایک وہم ہے اور اگر یہ چیزیں دیو تا تسلیم کی گئی ہیں تو اُن کا دیوتا تسلیم کرنا خود ایک وہم ہے۔بہر حال کوئی معنی لے لئے جائیں وہم ہی کی تعلیم اس سے نکلتی ہے۔اسی طرح رگوید کی دوسری کتاب کے گیارہویں ادھیائے کے گیارہویں شلوک میں لکھا ہے : او اندر ! تو سوم پی اور یہ خوشی دینے والا رس تجھے خوشی پہنچائے“۔اب اندر یا تو فرشتوں کا نام قرار دیا جا سکتا ہے یا خدا تعالیٰ کا۔اگر یہ خدا تعالیٰ کا نام ہے تب بھی سوم کا رس خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرنا ایک نہایت ہی ادنیٰ قسم کا وہم ہے۔اور اگر اندر کسی فرشتے یا اور کسی روح کا نام ہے تب بھی اُس کے آگے سوم کا رس پیش کرنا ایک نہایت ہی ادنیٰ وہم ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ہستی وراء الورا ہے اور اُس کے فرشتے روحانی وجود ہیں اُن کے لئے کسی شربت کے پینے یا پلانے کا خیال کرنا بھی ایک نہایت ہی مضحکہ خیز خیال ہے۔پھر اسی ادھیائے کے پندرھویں منتر میں لکھا ہے۔اواندر! تو سوم کا رس پی تا کہ تجھے طاقت اور خوشی آئے“۔خدا تعالیٰ یا اُس کے فرشتوں کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ سوم کا رس اُن کو طاقت بخشتا ہے یہ بھی کتنا مضحکہ انگیز خیال ہے۔یہ ایک دو منتر نہیں بلکہ سینکڑوں منتر ویدں میں ایسے پائے جاتے ہیں جو اس قسم کی وہم والی تعلیمیں پیش کرتے ہیں۔دیوتاؤں کا آسمانوں پر کبھی بادلوں پر سواری کرنا اور کبھی رتھوں پر چڑھنا یہ اور اسی قسم کے بہت سے خیالات ویدوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ویدوں کی خلاف اخلاق تعلیم دیدوں میں بہت سی خلاف اخلاق تعلیم بھی ہے، لیکن وہ اتنی عریاں ہے کہ تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کی جاسکتی۔اس میں شہوانی قوتوں اور شہوانی اعضاء کے متعلق ایسی ایسی باتیں بیان کی گئی ہی ہیں کہ جو اس عریانی کے ساتھ طب کی کتابوں میں بھی لکھنی جائز نہیں۔ان تمام وجوہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وید جس کے بہت سے حصے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے ہوں گے ان میں انسانوں نے ایسی تعلیمیں ملا دی ہیں کہ جن کی بناء پر اب وہ قابل عمل نہیں رہے اور یقیناً اس خرابی کے بعد جو ویدوں میں آج