انوارالعلوم (جلد 1) — Page 647
رکعت ایک اور تین رکعت ایک ادا کی جاتی ہیں اور اس نماز کا وقت آدھی رات تک رہتا ہے ان نمازوں کے علاوہ مسلمانوں کو ترغیب دلائی گئی ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد پوپھٹنے سے پہلے کسی وقت اٹھ کر آٹھ رکعت نماز دو دو رکعت کر کے ادا کریں اور یہ نماز تہجد کہلاتی ہے۔یہ نماز ( ہر مسلم پر )فرض نہیں جو چاہے پڑھے۔نماز میں دعاان دعاؤں کے علاوہ جو نماز میں پڑھنی مسلمان کے لئے ضروری ہیں اور جو کہ عربی زبان میں ادا کی جاتی ہیں اجازت ہے کہ نماز پڑھنے والا اپنی اپنی زبان میں اپنی ضروریات کے لئے دعا کرے اور یہ دعا قیام رکوع سجدہ قعدہ جلسہ ہر ایک موقعہ پر ہو سکتی ہے۔چند آیات قرآنیہم نے بتایا تھا کہ سورة فاتحہ کے بعد چند آیات قرآنی کا پڑھنا ضروری ہو تاہے۔اس لئے ہم قرآن شریف کے مختلف مقامات سے چند آیات قرآنیہ دیتے ہیں۔جو نمازمیں پڑھی جاسکتی ہیں۔(1) اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ (البقرہ:۲۵۶)۔ترجمہ : اللہ وہ ذات ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے وہ بغیر کسی کی مدد کے خودقائم ہے۔نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔اس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔کون ہے جو اس کے پاس شفاعت کر سکے گمراہی کے علم سے ایسا کر سکتا ہے وہ خوب جانتا ہے جو کچھ لوگ کر چکے ہیں اور جو کچھ کریں گے اور اس کے علم کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا ہاں جس قدر علم وہ خوددے اسی قدر انسان کو اس کی نسبت علم ہو سکتا ہے اس کا علم تو آسمانوں اور زمینوں پر حاوی ہے اوراسے آسمانوں اور زمین کی حفاظت تھکاتی ہیں اور وہ بڑا ہے اور عظمت والا ہے۔(۲ ) قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚاَللّٰهُ الصَّمَدُۚ لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدۙ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(الا خلاص) ترجمہ۔کہہ دے کہ اللہ ایک ہے اللہ وہ ہے کہ اس کی مدد کے بغیر کوئی پر قائم نہیں رہ سکتی۔نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے۔اور اس کا برابروالا کوئی نہیں۔(۳) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(الحجرات۱۲)