انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 37

پہلے جو لوگ گذرے ہیں وہ ان کے کفارہ پر ایمان رکھتے تھے۔یا کفارہ پر بھی ہم کس طرح یقین کریں بلکہ شریعت موسوی اس کو ناجائز ٹھہراتی ہے۔جس شریعت پر چلنے کا فخرخود حضرت عیسیٰؑ کو تھا پھر ان دلائل کے علا وہ ایک بات ایسی زبردست ہے کہ جس کو خیال میں لا کر ہم ایک دم کیلئے بھی حضرت عیسیٰؑ کو خدائی کا منصب نہیں دے سکتے یا دوسرے الفاظ میں ہم قطعاً یہ و ہم بھی نہیں کر سکتے کہ عیسائی مذہب سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی قبر سری نگر کے خانیار محلہ میں معلوم کی گئی ہے اور انجیل سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ صلیب پر مرے نہیں بلکہ اس پرسے زندہ اتار لئے گئے تھے۔اور تاریخی شہادتوں سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچائی گئی ہے کہ وہ سری نگر میں آئے اور وہاں آکر فوت ہوئے جس کی گو ایی خود سری نگر کے باشندے بھی دیتے ہیں اب ہم نے مختصر سے دلائل اس بات کے دے دیئے ہیں کہ آیا عیسائی مذہب سچا ہے یا نہیں۔یا کہ اس کا خدااس قابل ہے کہ ہم اس سے محبت کریں یا نہیں۔اور ان دلائل سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے انسانی تصرفات اس مذہب میں جگہ رکھتے ہیں اور یہ اس قابل نہیں رہا کہ خدا کی تلاش کرنےوالا آدمی اس سے کچھ فائدہ اٹھائے۔اس لئے اب ہم یہودیوں میں خدا کی تلاش کرتے ہیں کہ شایدہم کو وہ خدا ملے جس سے کہ ہم محبت کریں اور وہ ہماری محبت کا بدلہ دے اور اس قابل ہو کہ ہم اس سے تسلی پائیں جو کہ آفات اور مشکلات کے وقت اپنے بندوں کی دستگیری کرے۔مگر افسوس کہ اس مذہب کی طرف ایک ہی قدم اٹھا کر ایک مایوسی سی ہو جاتی ہے اور طالب حق جو کہ حق اوراصلیت کی تلاش میں دن رات سرگردان و پریشان رہتا ہو اور جس کو فکر اور غم اس لئے گھیرےرہتے ہوں کہ کسی طرح اس کو وہ خدا ملے کہ جس کی محبت سے اس کا دل پاک ہو جائے اور یہ ایک سکھ اور چین کی زندگی پاوے گھبرااٹھتا ہے اور حیران ہوتا ہے کہ یہ کیسا مذہب ہے کہ جس کے پیروخدا کے تعلق اور اس کے راستے کی ہد ایت کو اپنے لئے ہی مخصوص سمجھتے ہیں۔ناظرین کو یاد رکھناچاہئے کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ سوائے ہمارے نجات کسی کو نہیں مل سکتی اور یہ کہ اور کوئی شخص اگر ہم میں داخل ہو نا چاہے تو اس کے لئے یہ دروازه قطعاً بند ہے اور ایسا ممکن نہیں کہ کوئی شخص توریت اور حضرت موسیٰؑ پر ایمان لا کر یہودیوں کے زمرہ میں داخل ہو جائے۔اگر کوئی شخص یہودیوں میں داخل نہیں ہو سکتا تھا تو چاہئے تھا کہ کوئی اور طریقہ بھی نکالا جاتاکہ جس سے دنیا دائمی عذاب اور ہمیشہ کیلئے لعنت سے بچ جاتی۔مگر نہیں۔شاید خدا تعالیٰ کا یہودیوں سے رشتہ ہے کہ نجات سوائے ان کے اور کسی کو ملتی نہیں سکتی۔اس نجات کا فائدہ ہی کیا ہوا کہ سوائے ایک فرقہ کے ces