انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 36

تھا ایک دن اس پر ایسا بھی آیا کہ وہ اپنے باپ سے تعلق توڑ بیٹھا اور اس قادر مطلق کا انکار کردیا جس کی طاقت اور جلال کا وہ سب سے زیادہ واقف تھا۔کیونکہ لعنت کا یہی مفہوم ہے اور اگر توریت ہم کو ایسی نظیر بتاتی تو کچھ بات بھی تھی مگر بجائے اسکے کہ توریت کفارہ کی کوئی نظیر بتائے وہ الٹی اس کی منکر ہے۔کیونکہ پیدائش باب۴۴ آیت ۱۶،۱۷ میں لکھا ہے کہ "بہودا بولا کہ ہم اپنے خداوند سے کیا کہیں اور کیا بولیں اور کیونکر اپنے تئیں پاک ٹھہراویں کہ خدا نے تیرے چاکر کی بد کاری ظاہر کی دیکھ کہ ہم اور وہ بھی جس پاس سے پیالا نکلا اپنے خداوند کے غلام ہیں وہ بولا خدا نہ کرے کہ میں ایسا کروں۔یہ شخص جس پاس سے پیالا نکلا وہی میرا غلام ہو گا۔اور تم اپنے باپ کے پاس سلامت جاؤ‘‘۔اس جگہ حضرت یوسف اپنے بھائی کو ایک پیالہ کی چوری کا ملزم بھی ٹھہراتے ہیں۔(یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ کہیں در حقیقت حضرت یوسف کے بھائی نے چوری کی بلکہ پیالہ حضرت یوسف کے غلاموں سے غلہ کی بوری میں رکھا گیا تھا) اور ان کےدوسرے بھائی اپنے آپ کو ان کے پاس ایک قیدی یا غلام کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر وہ جواب دیتے ہیں کہ خدا نہ کرے کہ میں ایسا کروں اور اگر کفاره جائز ہوتا تو حضرت یوسفؑ کے بھائی جواب دینے کہ جب خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا کی خاطر قربان کر دیا اور اس بیٹے کی قربانی کو قبول کیا تو کیا وجہ کہ ہماری قربانی اپنے بھائی کے بدلے رد کی جائے اور خود حضرت یوسف جو کہ نبی تھے یہ فقرہ زبان پر نہ لاتے۔کیونکہ خدا نہ کرے کا لفظ ظاہر کر تا ہے کہ ایک کے بدلے دوسرے کو پکڑ نا شریعت کے لحاظ سے ناجائز تھا اس لئے حضرت یوسفؑ فرماتے ہیں کہ خدا نہ کرے کہ مجھ سےایسا برا فعل سرزد ہو۔اس جگہ کوئی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ حضرت یوسف کے بھائی اپنےبھائی کے بدلے میں اپنے آپ کو غلام نہیں قرار دیتے بلکہ وہ اپنے آپ کو اس کے ساتھ پکڑواتےہیں۔مگر حضرت یوسفؑ کے جواب پر غور کرنے سے یہ بات اس پر کھل جائے گی کہ ان کا اصل مطلب یہی تھا کہ ان میں سے ایک رکھا جائے اور چھوٹا بھائی چھوڑ دیا جائے اور پھر اس گفتگو میں آگے چل کر یہودا کا آیت ۳۳ میں یہ کہنا کہ ’’اب مجھے اجازت دیجئے کہ تیرا چا کر جو ان کے بدلے اپنے خداوند کی غلامی میں رہے اور جو ان کو اس کے بھائیوں کے ساتھ جانے دے‘‘ صاف ظاہرکرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے بدلہ میں قید کروانا چاہتا تھا۔مگر حضرت یوسف نے صاف جواب دیا اور اس کو ایک گناہ قرار دیا۔پس جبکہ کفارہ شربیعت میں ناجائز تھا اور نبی اس کو ایک گناه ٹھہراتے تھے تو کیونکر یہ مانا جائے کہ حضرت عیسیٰؑ سے