انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 35

۳۶ میں ہے کہ ”اب جس کے پاس بٹواہو لیوے اور اسی طرح جھولی بھی اور جس کے پاس نہ ہو وہ اپنی پوشاک بیچ کر تلوار خریدے اس کا سوائے اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ اس تخت کےوعدہ کو اور بھی مضبوط کیا جائے مگر افسوس ہے تخت تو کیا ملے تھے ان میں سے ایک حواری تو برگشتہ ہو گیا جس نے کہ تیس کھوٹے درہم لے کر اپنے استاد کا سراغ بتایا اور ایک نے تین دفعہ یسوع پرلعنت کی۔پس ایک تو یہ وعدہ تھا جو آج تک پورا نہ ہوا۔اور دوسرا وہ ہے جو قیامت تک کبھی نہ ہو گا یعنی مسیح نے حواریوں سے وعدہ کیا تھا(لوقا باب ۲۱ آیت ۴۷ )لوگ ابن آدم کو بدلی میں قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے " پھر آیت ۳۲،۳۳ میں ہے کہ "میں تم سے سچ کچھ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب نہ ہو لیوے یہ پشت کبھی نہ گزرے گی آسمان و زمین نکل جائیں گے پر میری باتیں کبھی نہ ٹلیں گی مگروہ پشت تو الگ رہی اس زمانہ سے آج تک یہودیوں کی بیسیوں پشتیں گذر گئیں مگر اب تک پیسوع آسمان سے قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ نہیں اترا۔پھر تیسری وعده خلافی وہ ہے جو کہ ہم اور گناہوں کی معافی کی نسبت بیان کر چکے ہیں۔اب دیکھنا چاہیئے کہ جب یہ تینوں و عدے مسیح یا خدا نے اپنے بندوں سے کئے تھے وہ آج تک پورے نہیں ہوئے تو اس سےاور کیا امید ہو سکتی ہے۔اب ہم آخری بات جو ناظرین کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں وہ عیسائیوں کایہ عقیدہ ہے کہ مسیح لعنتی تھا۔اور یہ بات بالکل ہی لغو اور بیہودہ ہے کیونکہ لعنت تعلق رکھتی ہے دل سے اور کسی کا لعنتی ہو تا ظا ہر کرتا ہے کہ اس کا دل خدا سےپھر گیا۔مگر یہاں تو خود مسیح ہی خدا تھا اس کا دل پھرا تو کس سے پھرا اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس وقت انسانی قالب میں تھا تو اور الزام آئے گااور اس صورت میں جانا پڑے گا کہ اس کا دل خدا سے جو باپ تھا پھر گیا اور یہ بات ناممکن ہے کیونکہ وہ اسی کی طرف تو لوگوں کو بلانے آیا تھا پس ان تمام باتوں سے معلوم ہو تا ہے کہ عیسائیوں کاخد اوہ خدا نہیں جس سے ہم کسی بہتری کی امید کر سکیں یا ہمارا دل جس کی طرف محبت کرنے کے لئے جھک جائے اور یہ کفارہ کی آڑ بھی سوائے دھوکے کی ٹٹی کے اور کچھ نہیں اور یہ ایک لغو بات ہے کہ مرے کوئی اور گناہ کسی کے بخشے جائیں ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی دنیا میں ایسا نہیں ہوا کہ ایک شخص کےسردرد ہو اور دو سرا اپنے سر میں پتھر مار لے اور وہ جو کہ سر درد میں مبتلا تھابیماری سے شفایاب ہو پھر ہم کس طرح یقین کر سکتے ہیں کہ مسیح نے دنیا پر رحم کھا کر اپنے آپ کو قربان کر دیا اور دوسروں کے گناہوں کو اپنے سر پر لے لیا۔اور وہ جو کہ قادر مطلق تھا اور خدا کا اکلوتابیٹا