انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 29

۔کہ تم تو میرےلئے ہی ہو اور میرے پاس ہی لوٹو گے اور ایک میری ہی ہستی ہے کہ جس کی محبت تم کو کچھ فائدہ دے سکتی ہے۔تو کیا وجہ کہ تم ایک فانی چیز سے اس قدر محبت کرتے ہو تم کو تو چاہیے کہ تم مجھ سے محبت کرو جو فانی نہیں۔وہ چیزیں تو تم سے جدا ہونے والی ہیں اور اس کے بر خلاف میری طرف تم لوٹنے والے ہو اور مجھ سے تم کو جدائی نہیں تو بتلاؤ کہ ایسی چیز سے محبت کرنی چاہیئے جو جدا ہونے والی ہےاور آخر رنج دینے والی ہے یا اس ہستی ہے جس کی طرف لوٹنا ہو گا۔اور اس سے کبھی لوٹنا نہ ہو گا اورہمیشہ اس محبت کا ثمرہ ملتا رہے گا۔پس جب انسان کسی خساره یا تکلیف کے وقت اس فقرہ کو زبان پرلاتا ہے تو اس کے دل میں فوراً صبر اور استقلال کی ترغیب پیدا ہوتی ہے کہ کیا وجہ میں ایک فانی چیزسے محبت کروں جبکہ نہایت حسین اور نہایت پیا را غیر فانی خدا میرے سامنے محبت کرنے کو موجود ہے۔مگر جب انسان خدا سے محبت کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کے دل میں خدا کی مخلوق کی محبت بھی جوش زن ہوتی ہے اور جتنا وہ اس میں بڑھتا جا تا ہے اتنا ہی اس میں بھی ترقی کر تا ہے۔اس وقت انسان جس چیز کو دیکھتاہے معاً قاور خدا کی قدرت یاد آجاتی ہے کہ یہ سب صناعیاں اسی کی ہیں۔اور جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے وہ سب اسی کی مخلوق ہے۔پس بوجہ اس کے کہ وہ اس کے محبوب کی بنائی ہوئی چیز ہے اور اسی کے ارادہ اور علم سے بنی ہے وہ اس کی قدر کرتا ہے اور اسی لئے وہ ان گناہوں سے بچ جاتا ہے جن میں کہ دوسرے لوگ اس وجہ سے پھنسے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کو خدا سےمحبت نہیں ہوتی یا اس درجہ تک نہیں ہوتی مثلا ایک خدا سے محبت کرنے والا انسان اسراف سےپر ہیز کرے گا کیونکہ وہ برداشت ہی نہیں کر سکے گا کہ ایک چیز جو کہ خدا نے اس کو دی ہے بلا ضرورت اور بلا وجہ ضائع کی جائے اور وہ ظلم و تعدی سے پرہیز کرے گا کیونکہ اس کی طبیعت اس کی متحمل نہیں ہو سکے گی کہ خدا تعالیٰ کی بنائی چیز کو تباہ کرے اور اسی طرح اس محبت سے جو کہ ایک انسان کو خدا سے ہو وہ دیگر تمام گناہوں اور کمزوریوں سے بچتا ہے۔اور بر خلاف اس کے جو خدا تعالیٰ سے محبت نہیں رکھتا اگر انجام کے خوف سے اور سزا کے ڈر سے گناہوں اور بدیوں سے بچنےکی کوشش بھی کرے تو اس حد تک نہیں بچ سکتا جہاں تک کہ وہ شخص جو کہ محبت اور اخلاص کی وجہ سے بچتا ہے۔اس وقت یہ بھی کہہ دینا ضروری ہے کہ اخلاص سے کام کرنے والا انسان بھی ایک قسم کی سزا کا ڈر اور خوف رکھتا ہے مگر وہ بھی اس لئے ہوتا ہے کہ کہیں میری محبت میں خلل نہ آجائے اور ایسا نہ ہو کہ میں خدا تعالیٰ سے دور جا پڑوں۔ہاں بعض اولیاء کے قول سے یہ بھی ظاہر |ہے کہ ایسے انسان بھی دنیا میں ہوتے ہیں جن کے دل میں خوف دوزخ یا امید بہشت کچھ بھی نہیں ہو