انوارالعلوم (جلد 1) — Page 496
فقدان حواس کی وجہ سے ایسا کہہ تو لے لیکن وہ کون ہے جو اس کے مجنونانہ خیالات کے مطابق اس کے متعاقبین کی آنکھوںکو اس سے پھیر دے اور متعاقب سر پر پہنچ کر پھر اس کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھ سکیں۔پس رسول کریم ﷺ کا توکّل ایک رسو لا نہ توکّل تھا اور جسےخدا تعالیٰ نے اسی رنگ میں پو را کر دیا۔آپؐ نے خدا تعالیٰ پر یقین کر کے کہا کہ میرا خدا ایسے وقت میں مجھے ضائع نہیں کرے گا اور خدا نے آپؐ کے توکّل کو پورا کیا اور آپؐ کودشمن کے قبضہ میں جا نے سے بچالیا اور اسے اس طرح اندھا کر دیا کہ وہ آپؐ کے قریب پہنچ کر خائب و خاسر لوٹ گیا۔یہ وہ توکّل ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔حضرت موسیٰ سے بھی ایک موقع پر اس قسم کے توکّل کی نظیر ملتی ہے لیکن وہ مثال اس سے بہت ہی ادنیٰ ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کے ساتھیوں نے فر عونیوں کو دیکھ کر کہا کہ اِنَّا لَمُدْ رَکُوْنَ ہم ضرور گرفتار ہو جا ئیں گے اس پر حضرت موسٰی نے جواب میں کہااِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ (الشعراء:63)لیکن رسول کریمﷺ کا توکّل ایسا کامل تھا کہ اس نے آپؐ کے سا تھی پر بھی اثر ڈالا اور حضرت ابوبکرؓ نے موسائیوں کی طرح گھبرا کر یہ نہیں کہا کہ ہم ضرور پکڑے جا ئیں گے بلکہ یہ کہاکہ اگر وہ نیچی نظر کریں تو دیکھ لیں۔اور یہ ایمان اس پر تَو کا نتیجہ تھا جو نور نبوت اس وقت آپؐ کے دل پر ڈال رہا تھا۔دوسرے حضرت موسیٰ ؑ کے سا تھ فوج تھی اور ان کے آگے بھا گنے کی جگہ ضرور موجود تھی لیکن رسول کریمؐ کے سا تھ نہ کو ئی جماعت تھی اور نہ آپؐ کے سا منے کو ئی اَور راستہ تھا۔اسی طرح اور بھی بہت سے فرق ہیں جو طوالت کی وجہ سے میں اس جگہ بیان نہیں کرتا۔آپؐ کی ایک دعارسول کریم ؐکو خدا تعالیٰ پر ایسا توکّل تھاکہ ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اسی پر نظر رکھتے اور اس کے سوا ہر شَے سے توجہ ہٹا لیتے۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ آپؐ آج کل کے صوفیاء کی طرح اسباب کے تا رک نہ تھے کیونکہ اسباب کا ترک گو یا خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہتک کر نا اور اس کی پیدا ئش کو لغو قرار دینا ہے۔لیکن اسباب کے مہیا کر نے کے بعد آپؐ بکلی خدا تعالیٰ پر توکّل کر تے اور گو اسباب مہیا کر تے لیکن ان پر بھروسہ اور توکّل کبھی نہ کرتے تھے او ر صرف خدا ہی کے فضل کے امید وار رہتے۔حضرت ابن عباس ؓ فر ما تے ہیں کہ آپؐ ہر ایک گھبراہٹ کے وقت فر ما تے۔لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السّٰمٰوٰتِ