انوارالعلوم (جلد 1) — Page 477
تھے۔غرضیکہ جب لشکر پراگندہ ہو گیا اور رسول کریمؐ کے گرد صرف ایک قلیل جماعت ہی رہ گئی تو ابو سفیان نے پکار کر کہا کہ کیا تم میں محمد(ﷺ) ہے اور اس بات کو تین بار دہرایا لیکن رسول کریم ؐ نے لوگوں کو منع کر دیا کہ وہ جواب نہ دیں۔اس کے بعد ابو سفیان نے تین دفعہ بآوازبلند کہا کہ کیا تم میں ابن ابی قحافہ (حضرت ابوبکر ؓ) ہے۔اس کا جواب بھی نہ دیا گیا تو اس نے پھر تین دفعہ پکار کر کہا کہ کیا تم میں ابن الخطاب(حضرت عمرؓ)ہے۔پھر بھی جب جواب نہ ملا تو اس نے اپنے سا تھیوں کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ یہ لوگ مارے گئے ہیں۔اس بات کو سن کر حضرت عمرؓ برداشت نہ کر سکے اور فرمایا کہ اے خدا کے دشمن تو نے جھوٹ کہا ہے جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب کے سب زندہ ہیں اور وہ چیز جسے تو ناپسند کر تا ہے ابھی با قی ہے۔اس جواب کو سن کر ابو سفیان نے کہا کہ آج کا دن بدر کا بدلہ ہو گیا۔اور لڑا ئیوں کا حال ڈول کا سا ہو تا ہے تم اپنے مقتولوں میں بعض ایسے پاؤ گے کہ جن کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں گے۔میں نے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا لیکن میں اس بات کو نا پسند بھی نہیں کر تا۔پھر فخر یہ کلمات بآوازبلند کہنے لگا اُعْلُ ھُبَلْ اُعْلُ ھُبَلْ یعنی اے ہبل(بت) تیرا درجہ بلند ہو اے ہبل تیرا درجہ بلند ہو۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کو جواب کیوں نہیں دیتے۔صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ؐ! ہم کیا کہیں؟آپؐ نے فر مایا کہو‘‘کہ خدا تعالیٰ ہی سب سے بلند رتبہ اور سب سے زیا دہ شان والا ہے’’۔ابوسفیان نے یہ بات سنکر کہا‘‘ ہمارا تو ایک بت عُزّیٰ ہے اور تمہار کو ئی عُزّیٰ نہیں’’۔جب صحابہؓ خاموش رہے تو رسول کریم ؐ نے فر مایا کہ کیا تم جواب نہیں دیتے۔صحابہ ؓنے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ ہم کیا کہیں۔آپؐ نے فر مایا انہیں کہو کہ ‘‘خدا ہمارا دوست وکارساز ہے اور تمہارا کوئی دوست نہیں’’۔اس واقعہ سے اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خدا تعالیٰ کے معاملہ میں کیسے باغیرت تھے۔ابو سفیان اپنی جھوٹی فتح کے نشہ میں مخمور ہو کر زور سے پکارتا ہے کہ کیا آپ زندہ ہیں لیکن آپؐ اپنی جماعت کو منع فر ماتے ہیں کہ تم ان باتوں کا جواب ہی نہ دو اور خاموش رہو۔ایک عام آدمی جو اپنے نفس پر ایسا قابو نہ رکھتا ہو ایسے موقع پر بولنے سے کبھی باز نہیں رہ سکتا اور لا کھ میں سے ایک آدمی بھی شا ید مشکل سے ملے جو اپنے دشمن کی جھوٹی خوشی پر اس کی خوشی کو غارت کر نا پسند نہ کرے۔لیکن چونکہ ابو سفیان اس دعویٰ سے رسول کریم ؐ کی ذات کی ہتک کرنا چاہتا تھا اور یہ ظاہر کر نا چاہتا تھا کہ میں نے ان کو قتل کر دیا ہے اس لیے رسول کریم ؐ نے نہ صرف خود جواب نہ دیا بلکہ صحابہ ؓ کو بھی منع کر دیا۔