انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 430

دیتا تھا اور برے لفظوں کے ساتھ توہین کرتا تھا۔پھر 22؍فروری 1893ء کے اشتہار میں اس کے مرنے کی صورت بھی بتا دی۔عِجْلٌ جَسَدٌ لَّہٗ خُوَارٌلَّہٗ نَصَبٌ وَعَذَابٌ یعنی لیکھرام گوسالہ سامری ہے جو بےجان ہے اور اس میں محض ایک آواز ہے جس میں روحانیت نہیں۔اس لئے اس کو عذاب دیا جاوے گا جوگوسالہ سامری کو دیاگیا تھا۔ہر ایک شخص جانتا ہے کہ گوسالہ سامری کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور پھر جلایا گیا اور دریا میں ڈالا گیا تھا۔پھر 2 ؍اپریل 1893ء کو آپ نے ایک کشف دیکھا۔(دیکھو برکات الدعا کا حاشیہ۔روحانی خزائن جلد 6صفحہ 33) ایک قوی مہیب شکل جو گویا انسان نہیں ملائک شداد اور غلاظ سے ہے، وہ پوچھتا ہے کہ لیکھرام کہاں ہے۔پھر کرامات الصادقین کے اس شعر سے دن بھی بتا دیا۔وَبَشَّرَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ مُبَشِّرًا سَتَعْرِفُ یَوْمَ الْعِیْدِ وَ الْعِیْدُ اَقْرَبُ یعنی عید سے دوسرے دن ہفتہ والے دن اور الا اے دشمنِ نادان و بے راہ بترس از تیغِ برانِ محمدؐ پانچ سال پہلے شائع کرکے قتل کی صورت بھی بتا دی۔آخر لیکھرام 6مارچ 1897ء کو قتل کیا گیا اور سب نے متفق اللفظ مان لیا کہ یہ پیشگوئی بڑی صفائی کے ساتھ پوری ہو کر اللہ کی ہستی کے لئے حجت ناطقہ ٹھہری پس الہام الٰہی ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے خدا کا انکار کرنا نہایت بے حیائی بے شرمی ہوگی۔دلیل دہم:۔دسویں دلیل جو ہر ایک نزاع کے فیصلہ کے لئے قرآن شریف نے بیان فرمائی ہے۔اس آیت سے نکلتی ہے کہ وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت70:) یعنی جو لوگ ہمارے متعلق کوشش کرتے ہیں، ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیتے ہیں اور اس آیت پر جن لوگوں نے عمل کیا وہ ہمیشہ نفع میں رہے ہیں۔وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا منکر ہو اُسے تو ضرور خیال کرلینا چاہئے کہ اگر خدا ہے تو اس کے لئے بہت مشکل ہوگی پس اس خیال سے اگر سچائی کے دریافت کرنے کی اس کے دل میں تڑپ ہوتو اسے چاہئے کہ گڑگڑا کر اور بہت زور لگا کر وہ اس رنگ میں دعا کرے کہ اے خدا! اگر تو ہے اور جس طرح تیرے ماننے والے کہتے ہیں تو غیرمحدود طاقتوں والا ہے۔تو مجھ پر رحم کر اور مجھے اپنی طرف ہدایت کر اور میرے دل میں بھی یقین اور ایمان ڈال دے تاکہ میں محروم نہ رہ جائوں۔اگر اس طرح سچے دل سے کوئی شخص دعا کرے گا اور کم سے کم چالیس دن تک اس پر عمل کرے گا تو خواہ اس کی پیدائش کسی مذہب میں ہوئی ہو اور وہ کسی ملک کا باشندہ