انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 376

میں تو دیکھتا ہوں کہ جب لوگ دنیا سے غافل ہو جاتے ہیں۔جب میرے دوستوں اور دشمنوں کو علم تک نہیں ہوتا کہ میں کس حال میں ہوں۔اس وقت تو مجھے جگاتا ہے۔اور محبت سے پیارسے فرماتا ہے کہ غم نہ کھا۔میں تیرے ساتھ ہوں۔تو پھر اسے میرے مولیٰ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس احسانکے ہوتے پھر میں تجھے چھوڑ دوں۔ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔‘‘ لیکن تقویٰ ایک دم میں حاصل نہیں ہوتا۔یہ نہ سمجھو کہ ایک دم میں تم کو اعلیٰ سے اعلی ٰمدارج مل جائیں۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ادھر بیعت کی اور ادھر علم روحانی کے دروازے کھل جائیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے سب کام وقت پر ہوتے ہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں اس بات کو عجیب طور سے بیان کیا گیا ہے۔لیکن چونکہ اکثر لوگ آیات قرآنی کے ربط کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اس لئے ناواقف رہتے ہیں۔چنانچہ فرمایا ہے وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ﳓ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ (ق: ۳۹،۴۰) بظاہر خلق السموت والأرض اور پھرف فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَمیں کچھ ربط نہیں معلوم ہو تا ہے۔مگر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔میں نے خدا ہو کر زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور اس عرصہ کی وجہ سے میں تھکا نہیں۔تو تم نے اسے خدا کا بندہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے نہ کہ خدا ہونے کا۔پس تم کیوں گھبراتے ہو خدا تعالیٰ کے سارے کام صبر کے ساتھ ہوتے ہیں۔نو ماہ میں نطفہ سے بچہ بنتا ہے۔پھر بچے سے جوان اور جو ان سے بوڑھا ہو تا ہے۔اب تمهارے ساتھ جو وعدے ہیں۔وہ بھی ضرور پورے ہوں گے تم تسبیح میں لگے رہو یعنی خدا تعالیٰ کی قدوسیت اور اپنی احتیاج کا اقرار اور وعظ کرتے رہو کامیاب ہو جاؤ گے۔ابھی سوچنے کی بات ہے کہ جب خدا تعالیٰ جو تمام نقصوں اورعیبوں سے پاک ہے۔جب وہ اپنے کام سہج سہج کرتا ہے تو تم جو پاک نہیں تمہیں کیاجلدی ہے۔اکثر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ اسی جلد بازی کی وجہ سے بد ظن ہو جاتے ہیں کہ آتے ہی کہہ دیا۔ہم نے بیعت تو کرلی۔مگر ہمیں رسول کی زیارت کیوں نہیں ہوتی۔ہم کو اولیاء اللہ کےمدارج کیوں نہیں مل گئے۔ہمیں تجارت میں کیوں گھاٹا پڑا۔یہ سب فاسد خیالات ہیں۔خدا تعالیٰ جب رسول کریم ﷺ کی خاطر اپنے قوانین نہیں توڑتا۔تو تم کہاں کے تیس مار خاں ہو کہ تم جو کہو وہ فورا ًہو جائے۔غرض ہر بات صبر کے ساتھ ہوتی ہے۔اور صبر کا پہلا درجہ تقویٰ ہے۔ایک مفسّرنے تقویٰ کی تعریف کی ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔مگر مفسّر سے میری مراد کشاف، خازن ،کبیر جلالین کے مفسّرنہیں۔بلکہ وہ جو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔وہ لکھتا ہے کہ تقویٰ کی یہ مثال ہے کہ