انوارالعلوم (جلد 1) — Page 375
کر کوڑا کرکٹ بنا سکتا ہے۔بچہ جو اپنے آپ کو سنبھال بھی نہیں سکتا وہ تو اپنی ہٹ نہیں چھوڑتا۔عورت جو خاوند کی محکوم ہے وہ تو اپنی ہٹ نہیں چھوڑتی۔راجہ جو مخلوق کا بنایا بڑا راجہ ہے وہ بھی جب بول اٹھتا ہے کہ میں یہ کام کروں گا تو کرکے رہتا ہے۔تو پھردو جو ان سب کا رب ہے کیا اس کے آگے ہماری ہٹ چل سکتی ہے۔پس سن رکھو کہ جو نافرمانیوں سے اور خدا کے مأموروں سے شوخیاں کرنے سے باز نہیں آتے ان کو منوایا جائے گا۔دیکھو عرب کے لوگوں نے کم ہٹیں نہیں کیں۔مگر رسول اللہﷺکے مقابلہ میں ان کی کچھ پیش نہ گئی۔وہی لوگ جو باعزت کہلاتے تھے آخر ذلیل و حقیر ہوئے اور ایسے کاٹ دئیے گئے کہ بے نام و نشان رہ گئے۔ابوجہل سيد العرب تھا۔محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں کیا دہ اَڑ سکا۔پھر یہاں تک خداکے پاک بندے کو کامیابی ہوئی کہ ہر ایک بستی میں سید کہلانے والا کوئی نہ کوئی موجود ہے۔مگر ابو جہل کی نسل سے کوئی نہیں بنتا۔باوجود یکہ نسل اس کی موجود ہے مگر اس کی طرف منسوب ہو نا عار کا موجب سمجھا جا تا ہے۔سید کیا ہیں۔رسول اللہ ﷺ کے لڑکے کی نہیں بلکہ لڑکی کی اولاد ہیں۔مگر لوگ کہتے ہیں کچھ بھی ہو کسی طرح رسول اللہ ﷺ سے ہمارا تعلق تو بنا ر ہے گو قرآن مجید میں ان اكرمكم عند الله اتقکم(الھجرات : ۱۴) آیا ہے۔اور ابو جہل کی اولاد ہو نا کوئی بری بات نہیں۔مگر پھر بھی لوگ پسند نہیں کرتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے خدا کے مامؤر کا مقابلہ کیا۔پس وہ ذلیل و حقیر ہوا۔تقویٰ کیا چیز ہےاب میں بتاتا ہوں کہ وہ تقوی کیا ہے جس کے حصول کے لئے یہ ارشاد فرمایا۔تقویٰ کے تین مدارج ہیں جو الله تعالیٰ نے مجھے سمجھائے اور بھی ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس وقت بیان کرنے کے لئے یہی دل میں ڈالے ہیں) اور میں انہیں اسی طرزمیں سنانےکی کوشش کروں گا کہ زمیندار بھی سمجھ جائیں۔لیکن ان کے بیان کرنے سے پہلے میں اتنابتانا چاہتاہوں کہ تقویٰ ایک ایسی نعمت ہے کہ جس شخص کو حاصل ہو پھر وہ اس کے مقابل میں دنیا کی کسی چیز کی پرواہ نہیں کر تا چنانچہ ایک بات حضرت اقدسؑ کی مجھے یاد آگئی۔آپ لوگوں کا حق ہے کہ آپ کوسنائی جائے۔کیونکہ اگرچہ میرا حضرت سے دوہرا یعنی جسمانی بھی اور روحانی بھی تعلق ہے۔مگرروحانی لحاظ سے آپ بھی ان کے بیٹے ہیں۔آپ کی نوٹ بک میں نے دیکھی۔آپ کا معمول تھا کہ جب کوئی پاک خیال پاک جذبہ دل میں اٹھتاتو آپ لکھ لیتے۔اس نوٹ بک میں خدا کو مخاطب کر کےلکھا ہے۔’’ او میرے مولیٰ! میرے پیارے مالک !میرے محبوب ا میرے معشوق خدادنیا کہتی ہے تو کافر ہے۔مگر کیا تجھ سے پیارا مجھے کوئی اور مل سکتا ہے۔اگر ہو تو اس کی خاطر تجھے چھوڑ دوں۔لیکن