انوارالعلوم (جلد 1) — Page 8
سچا عبد کون ہوتا ہےبندے کا تو فرض ہے کہ خالص اپنے آقا کے لئے ہو جائے مگر جب ایک آدمی خدا کے علاوہ اوروں کی پرستش کرتا ہے ان سے بھی نفع و ضر کی ویسی ہی امید رکھتا ہے جیسے کہ خدا سے تو کیوں کر وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بندہ کہہ سکتا ہے۔اوراصل بندہ تو وہ ہے جو نفس مطمئنہ رکھتا ہے اور اس کا قلب خدا تعالیٰ کی الوہیت سے مطمئن ہے اوروہ کسی اور کو خدا تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرا تا۔جو ایک خدا کو جو متصف ہے تمام نیک صفات سےاپنے لئے کافی سمجھتا ہے، اور جو عبودیت اور خالص بندگی سے آپ کو خدا تعالیٰ کا بندہ ہونے کےلائق بنادیتا ہے۔پس اس جگہ عبد کے معنے ایک بندہ کے ہیں جو خدا کا بندہ ہونے کے قابل ہے۔آنحضرت ﷺ و ابوجہل مثال کے لئے دیکھو آنحضرت ﷺ بھی اسی خداکے پیدا کئے ہوئے تھے اور ابو جہل بھی۔مگر ابو جہل نے اپنی شرارت ، فسق و فجور اور شرک سے اپنے آپ کو خدا کا بندہ ثابت نہ کیا بلکہ بتوں کا بنده ثابت کیا اورانہیں کی طرف داری میں اپنی جان تک قربان کی۔مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے آپ کو خالص خدا کے لئے ہی کر دیا شرک سے بکلی پر ہیز کیا اور اپنی عبادت اور قربانیاں سب خدا کے لئے ہی مخصوص رکھیں اور اپنے آپ کو خد اکابندہ ثابت کیا۔پس خود مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ اس کا انجام کیاہوا اور اس کا کیا؟ ابو جہل تو بدر کے میدان میں قتل کیاگیا اور ایک کنویں میں اس کی لاش پھینکی گئی۔اور اس کے مرتے وقت کی خواہش بھی پوری نہ ہوئی یعنی اس نے کہا تھا کہ میری گردن ذرالمبی کر کے کاٹنا کیوں کہ عرب کے معززین کی نشانی یہی ہوتی تھی۔مگر کاٹنے والے نے اس کی گردن سر کے پاس سے کاٹ کر ثابت کیا کہ شیطان کے دوست کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔اور اسی وقت دوسری طرف آنحضرت ﷺ کو وہ فتح نصیب ہوئی کہ وہ خدا تعالیٰ کی جنت کے وارث نہ صرف عقبٰی میں بلکہ اس دنیا میں بھی ثابت ہوئے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ۔پس وہ انسان جوخدا تعالیٰ سے کامل تعلق کرنا چاہے وہ شرک کو چھوڑ دے۔کیوں کہ خدا کو شرک پسند نہیں۔شرک کی دو قسمیں ہیںاب میں یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ شرک دو قسم پر مشتمل ہے۔ایک شرک جلی اور ایک شرک خفی۔شرک جلی وہ جو کھلا کھلاشرک ہے جیسے بتوں وغیرہ کا شرک، یا انسان پرستی، قبر پرستی، چاند اور سورج پرستی وغیرہ وغیرہ۔ایسے شرک کرنے والے تو اس کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ وہ ایسا کرتے ہیں مگر اچھا سمجھ کر اور ایسا شرک اکثر دور بھی ہو جاتا ہے۔