انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 9

شرک خفی کی حقیقتمگر زیادہ خوف کے قابل اور انسان کا دشمن شرک خفی ہے یعنی چھپا شرک۔ایسا شخص مانتا ہے کہ خدا ایک ہے اور پھر مشرک کا مشرک ہی ہے۔وہ بتوں کی پرستش اور دوسری چیزوں کی پرستش کو بھی برا سمجھتا ہے مگر پھر بھی شرک کے مرض میں گرفتار ہے۔وہ ایسا ہے جیسا کہ ایک مریض ایک سخت مرض میں گرفتار ہے اور پھر بھی علاج کرانے سے گریز کرتا ہے۔حکیم اس کو دوائی دیتا ہے اور وہ حکیم کی عقل پر ہنستا ہے کہ میں تو اچھابھلا ہوں۔مگر افسوس کہ اگر اس کو چشم بصیرت ہو تو وہ سمجھے کہ میں حکیم پرہنستا ہوں حالا نکہ میری حالت ایسی ہے کہ اس پر رویا جاوے۔پس ایسے شرک سے بچنے کے لئے سوائے اس کے کوئی علاج نہیں کہ خدا پر ہی کامل بھروسہ رکھا جاوے اور خشوع و خضوع سے دعا کی جائے کہ یا الٰہی ہم کو اس مہلک مرض سے بچا۔یہ شرک مختلف شکلوں کا ہوتا ہے جیسا کہ ایک شخص جو اپنے حاکم کے ڈر کےمارے اپنے عبادت کے وقتوں میں تساہل بے جا کر تا ہے۔یا خیال کرتا ہے کہ یہ حاکم اگر مجھ کو اس نوکری سے الگ کردے تو میرا اور کوئی چارہ نہیں اور میں سخت مصیبت میں مبتلا ہو جاؤں گا۔یا یہ کہ اگر فلاں شخص میری مدد نہ کرے گا تو میرا کام نہیں بنے گا۔تو وہ شرک کرتا ہے اور گویا کہ خدا سےبڑھ کر اپنے حاکم سے ڈرتا ہے یا خدا کی مدد سے بڑھ کر کسی اور کی مدد پر بھروسہ کرتا ہے۔پھر دوستی کے رنگ میں ہوتا ہے۔بعض دفعہ انسان کسی دوست کے خوش کرنے کے لئے کوئی ایسی حرکت کربیٹھتا ہے جو شریعت کے خلاف ہو۔اور نہیں سمجھتا کہ خدا کا خوش کرنا مجھ پر زیادہ واجب ہے بہ نسبت اس دوست کے۔پس وہ شرک کرتا ہے اور پھر اولاو اور مال پر بعض دفعہ ایک انسان اتنابھروسہ کرلیتا ہے یا اتنی محبت پیدا کرلیتا ہے کہ وہ شرک کے درجہ پر پہنچ جاتی ہے۔پس ایسے شرک سے بچنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔خدا سے دعائیں کرو اور خود کوشش کرو۔کیوں کہ جو اس کادروازہ کھٹکھٹاتا ہے وہ ناکام واپس نہیں آتا۔جو اس کو پکارتا ہے اس کی سنی جاتی ہے۔دیکھو آج کل کا زمانہ ایسا خوف ناک ہے کہ خیال کرنے سے ڈر معلوم ہو تا ہے او رویسا ہی بلکہ بڑھ کر با برکت بھی ہے کہ سوچنے سے خوشی حاصل ہوتی ہے۔موجودہ زمانہ آخری زمانہ ہےیہ وہ وقت ہے کہ خدا کا چہرہ سرخ ہو رہا ہے اور قریب ہے کہ وہ دنیا کو ہلاک کر دے۔مگر ساتھ ہی وہ اس وقت خزانہ کھول کر بیٹھا ہے تاکہ جو سوال کرے وہ اپنے سوال سے بڑھ کر پاوے۔اس زمانہ کی