انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 319

میں تبلیغ ہو چکی ہے بلکہ بعض دیگر ممالک میں بھی۔تیری یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن کو تبلیغ نہیں ہوئی۔اس کا حساب خدا کے ساتھ ہے ہم میں جانتے کہ تبلیغ ان کو ہو چکی ہے یا نہیں کیونکہ کسی کے دلی خیالات پر آگاہ نہیں اس لئے چونکہ شریعت کی بناء ظاہر پر ہے ہم ان کو کافر کہیں گے گو الله تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ وہ سزا کے لائق ہیں۔یا بموجب حدیث صحیحح پر موقعہ دیئے جانے سے لائق ہیں۔جو حضرت صاحب کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔حضرت صاحب فرماتے ہیں ’’یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم کے ہیں کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتاکہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سےبڑھ کر کافر ہے ‘‘, (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۳ )حاشیہ پر لکھتے ہیں’’ سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قراردے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔‘‘ پھر فرماتے ہیں کہ’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتاء ، غدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے \" پھر فرماتے ہیں ’’اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اورقرآن کی تکذیب کر تا ہے اور عمد اًخد ا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کر تا ہے اور مجھ کو باوجود صد ہانشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے وہ مؤمن کیوں کر ہو سکتا ہے۔‘‘(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۷۳) مترّدد کے لئے کفر کا فتویٰاب جبکہ میں حضرت صاحبؑ کی ایک ایسی عبارت نقل کر چکاہوں جس سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے ایک ہی قسم کے لوگ ہیں اور دونوں میں کوئی فرق نہیں اور جس طرح کافر کہنے والاایک مسلمان کو کافر کہہ کر کافر بنتا ہے اسی طرح ایک نبی کو نہ ماننے والا اسے نہ ماننے کی وجہ سے کافرٹھہرتا ہے میں ایک اور حوالہ درج کرتا ہوں جس میں آپ نے اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتاہے مگر مزید اطمینان کے لئے ابھی بیعت میں توقف کر تا ہے کا فر ٹھہرایا ہے چنانچہ آپ ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ ۱۸۷ میں اس سوال کے جواب میں کہ ’’چونکہ حضرت کی اب تک کوئی ایسی تاثیر روشن طور پر ظہور میں نہیں آئی اور دو تین لاکھ آدمی کا حضرت کے سلسلہ میں داخل ہو نا گویا دریا میں سےایک قطرہ ہے پس اگر تاثیر بیّن کے ظہور تک کوئی بغیر انکار کے داخل سلسلہ ہونے میں توقف اور