انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 318

دعوت پہنچنے سے کیا مراد ہے؟دوا مرضروری ہیں وہ شخص جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہےلوگوں کو اطلاع دے دے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور ان کو ان غلطیوں پر متبنہ کرد ے کہ فلاں فلاں اعتقاد میں تم خطا پر ہو یا فلاں فلاں عملی حالت میں تم سست ہو دوسرے یہ کہ آسمانی نشانوں اور دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے اپناسچا ہونا ثابت کرے۔کیا آپ نے دعوت پہنچادی؟پھر فرماتے ہیں کہ میں نے پنجاب ہندوستان کے بعض شہروں میں خو دجاکر خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دیا اور سترکے قریب کتابیں عربی اور فارسی اور اردو اور انگریزی میں حقانیت اسلام کے بارے میں جن کی جلد یں ایک لاکھ کے قریب ہوں گی تالیف کر کے ممالک اسلام میں شائع کی ہیں اور اسی مقصد کےلئے کئی لاکھ اشتہار شائع کیا ہے اور ہمارےسلسلہ سے غیر ملکوں کے لوگ بے خبر نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے دور دراز ملکوں تک ہماری دعوت پہنچ گئی ہے۔جن پر اتمام حجت نہیں ہو ان کا حکماور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور و مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے جس کی بناءظاہر پر ہے اس کا نام بھی کافر رکھا ہے اور ہم کبھی باتباع شریعت اس کو کافر کے نام سے ہی پکارتےہیں وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لا يكلف الله نفساالا وسعھا (البقرہ : ۲۸۷) قابل مؤاخذه نہیں ہو گا۔ان مندرجہ بالا آیتوں سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ اول تو یہ ضروری نہیں کہ زید یا بکر کہے کہ مجھےپر اتمام حجت نہیں ہوا اور مجھے دعوت نہیں پہنچی بلکہ اتنا کافی ہو گا کہ وہ نبی لوگوں کو اطلاع دےدے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ نشانات ہوں اور بس اتمام حجت ہوئی اور دعوت پہنچ گئی اور بات بھی یہی درست ہے کیونکہ جب اس شخص نے لوگوں کو کھول کھول کر سنا دیا اورنشانات آسمانی ظاہر ہو گئے تو پھر کسی کا یہ کہنا کہ فلاں فلاں کو بھی دعوت نہیں پہنچی کیسا غلط مسئلہ ہےاگر یہ اصول کیا جائے گا تو ماننا پڑے گا کہ کسی مأمور کی دعوت سوائے ان لوگوں کے جو اس کی بیعت میں داخل ہوئے کسی کو نہیں پہنچی اور قرآن شریف اور رسول الله ﷺ اور دیگر اولیائے کرام نے جو لوگوں کو کافر کہاہے سب جھوٹ ہو جائے گا۔دوسری بات یہ نکلتی ہے کہ حضرت صاحب نے پوری طرح سے تبلیغ کر دی ہے اور ہندوستان