انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 305

دیباچہ چند دنوں سے وطن اور المنیر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفة المسیح پر اعتراض کیا گیا ہے کہ آپ نے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں ایک ذرا سے فرق پر اختلاف ڈلوایااور لکھ دیا کہ ہم میں اصولی فرق ہے اسی طرح پیسہ اخبار میں کسی شوخ چشم نے ایک مضمون دیا ہےکہ امید ہے حضرت خلیفة المسیح اس فیصلے کو واپس لے کر حضرت مرزا صاحب کے الہامات کو باطل کر دیں گے۔اور ان پر سے کفر کا فتویٰ واپس لے لیں گے لیکن تعجب ہے کہ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اللہ مانتے ہیں تو کیونکر آپ کے فتویٰ کورد کر سکتے ہیں اور حضرت خلیفة المسیح تو آپ کے خلیفہ اور آپ کے کاموں کو پورا کرنے والے ہیں آپ کیو نکر آپ کے الہاموں کو رد کر سکتے ہیں اصل میں یہ لوگ مامورین اور انبیاء و رسل کی مخالفت کی حقیقت کو سمجھتے ہی نہیں تبھی تو کہتے ہیں کہ حضرت کے مخالف کیو نکر کافر ہوئے۔یا کم سےکم نیک نیتی سے نہ مانے والے کیو نکر کافر ہوئے حالانکہ رسول الله کو نہ مانے والے کیاسب کےسب بد نیت تھے اور کیا سب پر حجت قائم ہو چکی ہے۔سوئٹزر لینڈ کے پہاڑوں میں کون تبلیغ کرنےگیا تھا۔لیکن باوجود اس کے اسلام کی رو سے وہ کافر ہیں۔باقی یہ رہا کہ ان کو سزا ملے گی یا نہیں یہ خدا تعالیٰ جانتا ہے۔شریعت کا فتویٰ تو ظاہر پر ہے اس لئے ہم ان کو کافر کہیں گے۔پس جب تبت اورسوئٹزرلینڈ کے باشندے رسول اللہ ﷺکے نہ ماننے پر کافر ہیں تو ہندوستان کے باشندے مسیح موعود علیہ السلام کو نہ ماننے سے کیو نکر مؤمن ٹھہر سکتے ہیں غرضیکہ یہ خیال بالکل بے ہودہ اور عقل سے بعید تھا اس لئے اس کی تردید لاتی نظر آئی کہ احمدی بھائی دھوکہ نہ کھائیں۔لیکن چونکہ حضرت خلیفة المسیح کا فتویٰ بھی ضروری تھا اس لئے یہ مضمون بہ تمام و کمال آپ کو دکھایا گیا اور آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ مجھے اس مضمون سے مخالفت نہیں اور ہرگز مخالفت نہیں اور تحریر فرمایا ہے کہ