انوارالعلوم (جلد 1) — Page 284
عجیب بات یہ ہے کہ باوجود فرشتہ کے تسلی دینے کے یسوع کا دل مطمئن نہ ہوا اور وہ برابر گھبراتارہا۔ہیں اگر واقعی وہ اپنی مرضی سے صلیب پر چڑھنے کے لئے اس دنیامیں آیا تھا تو یہ رنج اور یہ گھبراہٹ اور یہ گریہ و زاری کیونکر ہو سکتی تھی؟ پھر یسوع اپنی دعا میں یہ کہتا ہے کہ اے باپ جس طرح ہو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔مگر وہی ہوجو تیری مرضی ہو نہ کہ میری۔صاف ظاہر کرتاہے کہ یسوع کی مرضی تو یہی تھی کہ وہ صلیب پر نہ لٹکایا جائے۔مگر حکم خداوندی کے آگے کچھ پیش نہ چلتی تھی۔تب ہی تو کہتا ہے کہ باوجود میری اس خواہش کے کہ میں صلیب سے بچ جاؤں میں تیری مرضی پر صابر ہوں۔پس اس سے نہ صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ یسوع خود صلیب پر نہ چڑھنا چاہتا تھا۔بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا باپ نے(نعوذ باللہ) اس کو زبردستی صلیب پر لٹکایا۔اور اس کا ایسا کرنا صریحاًعدل کے خلاف تھا کیونکہ کسی معصوم اور بے گناہ کو زبردستی صلیب پر لٹکانا سخت ظلم ہے پس جس طریقہ سے مسیح خدا کا عدل ثابت کرنا چاہتے ہیں۔اس سے اس کا ظلم ثابت ہوتا ہے اور خدا کی طرف ظلم کا منسوب کرنا خود ایک بڑا ظلم ہے۔مگر سب سے بڑھ کر یسوع کے وہ کلمات ہیں جو کہ اس نے صلیب پر لٹکایا جانے کے وقت بار بارو ہراۓ اور وہ یہ ہیں کہ ایلی ایلی ما سبقتنی۔این اے میرے خدا!اے میرے خدا تو نے مجھے کیوںچھوڑ دیا۔یہ کلمات ایسے توحید سے پر اور مایوسی میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ عقلمند انسان ان کو سن کر کبھی گمان نہیں کر سکتا کہ یسوع بھی خدائی کا شریک ہو سکتا تھا۔اور پھر اگر وہ خوشی سے صلیب پر لٹکناچاہتا تھا۔تو وہ اس حد تک کیوں گھبرا جاتا کہ خدا پر اپنے عہد کے ترک کر دینے کا الزام دیتا۔اگر وہ مسیحی دنیا کے بچانے کے لئے ہی دنیامیں آیا تھا۔تو جس دن اس نے سنا تھا کہ مجھے صلیب پر لٹکانے لگےہیں۔اس دن اسے بجائے غم کے خوشی ہونی چاہئے تھی۔اور چاہئے تھا کہ وہ اپنے کل مریدوں کواکٹھا کر کے جشن کر تا۔اور اپنی عادت کے مطابق وہ سب لوگ مل کر خوب شرابیں پیتے۔اور ناچتےاور گاتے کہ وہ مبارک دن اور بابرکت گھڑی اب قریب آگئی ہے کہ جس کے شوق میں یسوع آسمان کو چھوڑ کر اس زمین پر آیا تھا۔اور مصلوب ہوتے وقت بجائے یہ کہنے لگے کہ اے میرےخدا۔اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اسے یہ کہنا چاہئے تھا۔کہ اے میرے باپ۔اےمیرے باپ میں خوشی سے بنی نوع انسان کے لئے جان دیتا ہوں اور ان کے گناہ اپنے سر پر اٹھاتاہوں۔مگر وہ گھبراہٹ وہ آہ و زاری ظاہر کرتی ہے کہ جسم کفارہ کو مسیحی صاحبان نجات کا ایک ہی