انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 283

سے دور کرے لیکن میری مرضی نہیں بلکہ تیری مرضی کے موافق ہو اور آسمان سے ایک فرشتہ اس کو دکھائی دیا۔جو اسے قوت دیا تھا۔اور وہ جانکنی میں پھنس کے بہت گڑ گڑا کے رعایا گیا تھا اوراس کا پسینہ لہو کی بوند کی مانند ہو کر زمین پر گر تاتھا۔اور دعاسے اٹھ کر اپنے شاگردوں کے پاس آیا اورانہیں غم سے سوتے پایا۔اور ان سے کہا کہ تم کیوں سوتے ہو؟ اٹھ کر دعا مانگو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو \"۔اب ان دونوں حوالوں سے مندرجہ ذیل واقعات معلوم ہوتے ہیں۔اول تو یہ کہ اس واقعہ کی اطلاع ملنے سے یسوع پر ایسا غم طاری تھا کہ اس کی حالت موت کی طرح ہو گئی تھی۔دوم یہ کہ اس نے اپنے شاگردوں سے بڑے زور سے التجاکی کہ وہ اس کے لئے دعاکریں تاکہ وہ اس مصیبت سےبچ جائے۔سوم یہ کہ وہ خود بھی بہت گریہ و زاری سے اس تلخ پیالہ کےٹل جانے کی دعا کر تارہا چہارم یہ کہ اس کی اپنی مرضی صلیب پر لٹکنے کی نہ تھی بلکہ مجبور تھا۔اورخدا تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں اس کا کچھ بس نہ چلتا تھا۔پنجم یہ کہ اس کادرد یہاں تک بڑھ گیا کہ خدا تعالیٰ کو تسلی دینے کے لئے ایک فرشتہ نازل کرنا پڑا۔ششم یہ کہ پھر بھی اس کی تسلی نہ ہوئی بلکہ اس نے دعامیں اس قدر زور لگایا کہ اس کا پسینہ خون کی طرح سرخ ہو کر بہنے لگا۔ان سب باتوں کو غور سے دیکھو تو خود بخود کھل جائے گا کہ یسوع کا قطع منشاء نہ تھا کہ وہ صلیب پر لٹکایا جائے بلکہ اس خبر کو سن کر اس کے ہوش اڑ گئے اور صبر کا دامن ہاتھ سے جاتا ہے۔اور ہلاکت کا خوفناک نظر اس کی آنکھوں کے آگے پھر گیا۔اور زمین پاؤں کے تلے سے نکل گئی اور دنیا اندھیرہوگئی۔اور اس نے اس خیال سے کہ شاید اس کی نہیں تو اس کے مریدوں کی دعاہی بار گاہوالہٰی میں سنی جائے ان سے التجا کی اور عاجزی سے درخواست کی کہ وہ اس کے لئے دعا کریں۔کہ شاید وہ ابتلاء ٹل جائے۔اور وہ مصیبت گزر جائے اور خود بھی اس حد تک، دعا کی کہ شدت غم میں پسینہ کی کے خون بہنے لگا۔تو جس شخص کا یہ حال ہو کہ وہ گھٹنوں کے بل گر گر کر اپنے پائے جانے کی درخواست کرنے اور گڑگڑائے اور روئے اور چلائے اور آسمان کو سر پر اٹھا لے اس کی نسبت کون عقلمند کہہ سکتا ہے کہ اس نے بنی نوع انسان کے گناہ اپنے سر پر اٹھا لئے اور خوشی سے صلیب پر چڑھ گیا۔اگر یہی آثار خوشی کے ہوتے ہیں۔تو جیل خانوں میں سینکڑوں آدمی ہر سال اسی خوشی سےجانیں دیتے ہیں۔لوقا کا یہ لکھنا کہ اس کی تسلی کے لئے فرشتے بھیجا گیا ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کا غم کمال تک پہنچ گیاتھا۔ورنہ خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ فرشتہ بھیجتا کہ جو اس کے دل کو آکر سہارا دیتا۔مگر