انوارالعلوم (جلد 1) — Page 268
شرعی احکام میں حیلہ جوئی کرتے اور اس طرح فساد کا راستہ تلاش کرتے ہیں ہیں تو پس توبہ کے مسئلہ پرکسی صورت سے بھی یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا کہ اس سے گناہوں کی تحریک ہو گی بلکہ یہ تو گناہوں کی بیخ کنی ہے اور دوسرے یہ بات بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں کہ ساتھ ہی فرماتا ہے واصلح یعنی نہ صرف زبانی توبہ کرے۔بلکہ اس حد تک وہ تو وہ توبہ میں بڑھ جائے کہ اس کا اثر آکر بدن پر بھی پڑے۔اور اس توبہ کرنے والے کے اعمال بھی اس بات پر گواہی دیں کہ واقعی وہ صادق ہے اوراپنے دعوے میں مفتری نہیں اور وہ کوشش کرے کہ اس نے جو کچھ کیا تھا اس کی اصلاح ہو جاوےاور نیکی میں اس قدر علوّکرے کہ اس سے اس کے پچھلے اعمال بھی دھوئے جائیں مثلاًٍ ایک شخص اگر بخیل تھانویہی نہیں کہ اپنا مال چھوڑ دے بلکہ کامل توبہ تب ہوگی کہ وہ سخاوت بھی اختیار کرے۔بلکہ اور کو بھی اس طرف مائل کرے تب بیشک وہ اس قابل ہو گا کہ اس کے پچھلے گناہوں پر چشم پوشی کی جائے۔اب بتاؤ کہ کیا اس تعلیم سے گناہ پھیلتا ہے کہ رکتا ہے۔آیا وہ شخص جو توبہ کی تعلیم کے ماتحت بخل سے اس قدر بچ کر سخاوت کا محرک ہؤا ہے گناہ کا پھیلانے والا کہلائے گا یا دور کرنےوالا۔تیسرا اعتراضایک اور اعتراض توبہ کی قبولیت پر آریوں کی طرف سے یہ سنا جاتا ہے کہ جوہو گیا وہ اَن ہؤا کس طرح ہو سکتا ہے کیونکہ جس شخص نے ایک گناہ کیا فرض کرو کہ کسی کے گھر چوری کی تو اگر وہ توبہ کرے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کاوہ فعل رہے ہی نہ اور اس کا وجود ہی معدوم ہو جائے کیونکہ جو کچھ ہو چکا وہ اب واپس لوٹ نہیں سکتا۔پھر توبہ کےقبول کرنے کے کیا معنی کیونکہ جب ایک گناہگا ر ایک کام کر چکا تو اسے یہ کہنا کہ اس نے کیاہی نہیں غلط اور خلاف عقل طریق ہے۔گو کہ یہ اعتراض آریوں کی طرف سے اکثر سناگیا ہے مگر مجھے آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کس دماغ سے نکلا ہے۔قرآن شریف ہرگز کہیں نہیں کہتا کہ جس شخص نے گناہ کیا اور اس کے بعدتوبہ کرلی اور وہ توبہ قبول ہو گئی تو اس شخص کاگناہ ایسا محو ہؤ ا کہ یہ مت کہو کہ اس نے گناہ کیا تھا بلکہ کہو کہ اس سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔بلکہ قرآن شریف نے تو اس کا نام ہی غفران رکھا ہے یعنی ڈھانپ دیا۔اور بار بار فرمایا ہے کہ ا ن اللہ غفور رحیمجس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ اس گناه کو ڈھانک دیتا ہے۔چنانچہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے گناہوں کو ہم بخشتے ہیں یہ نہیں کہ لکڑی سے یا چاقو سے ان کے گناہوں کو کھرچ دیتے ہیں بلکہ ان کے گناہوں کے نیے سے ان کو بچا